پشاور میں روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی۔ دلازاک روڈ اور ورسک روڈ پر خاتون افیسر کی جانب سے ایل پی جی دکانوں کا معائنہ اور سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد کے دعوے سامنے آئے، مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف فوٹو سیشن تک محدود ہیں۔
شہر پشاور میں سبزی، گوشت، فروٹ، دودھ، دہی، بیکری آئٹمز اور دیگر اشیائے خوردونوش سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں، مگر انتظامیہ کی جانب سے عملی کارروائی دکھائی نہیں دیتی۔
شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ مختلف اداروں میں خواتین سمیت افسران کی اہم عہدوں پر تعیناتی کے باوجود نظام میں بہتری کیوں نہیں آ سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف عینک پہن کر ڈبل کیبن گاڑیوں میں بازاروں کے دورے اور تصاویر بنوانے سے عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں مہنگائی مافیا کھلے عام سرگرم ہے اور ضلعی انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث عوام روزانہ استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ نمائشی کارروائیوں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں اور سرکاری نرخ ناموں پر حقیقی عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو انصاف اور ریلیف مل سکے