جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکراتی عمل کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اندازِ گفتگو کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکی آمیز زبان کسی بھی سنجیدہ سفارتکاری کے منافی ہے۔
اپنے ایک خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایک عالمی طاقت کے سربراہ کا لہجہ مہذب اور متوازن ہونا چاہیے، تاہم ٹرمپ کی گفتگو سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی سفارتکار نہیں بلکہ ایک غیر سنجیدہ شخص بات کر رہا ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس طرح مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے؟
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سفارتکاری کے اپنے اصول اور آداب ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مذاکرات سے قبل اور بعد کی گفتگو میں احتیاط اور سنجیدگی ضروری ہوتی ہے، مگر یہاں کھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔
انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 47 سال بعد دونوں فریقین کا آمنے سامنے بیٹھنا ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس موقع پر سخت بیانات کے بجائے نرم اور تعمیری لہجہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم داخلی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت کو "فارم 47 کی حکومت” قرار دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ اگر عالمی سطح پر امن اور استحکام مطلوب ہے تو طاقت کے اظہار کے بجائے سنجیدہ اور مہذب سفارتکاری کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ تنازعات میں اضافہ ہوتا ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے عالمی قیادت پر زور دیا کہ وہ سفارتی آداب کو مدنظر رکھتے ہوئے گفتگو کرے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور مسائل کا پرامن حل ممکن بنایا جا سکے۔