پشاور: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری اصلاحاتی اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے صوبے میں انٹر ڈسپلنری ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے جاری کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اس کے علاوہ شرح خواندگی میں اضافہ یقینی بنانے کے لیے دور افتادہ علاقوں میں کمیونٹی اسکولوں کے قیام کی تجویز سے بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں ڈبل شفٹ اسکول پروگرام کو مزید وسعت دینے، جدید تقاضوں کے مطابق آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کورسز کے اجرا کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پیش کردہ تجاویز پر جلد تفصیلی اجلاس منعقد کر کے حتمی حکمت عملی مرتب کی جائے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت عوام کی بنیادی ضروریات ہیں اور حکومت ان شعبوں میں بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق انسانی ترقی پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے۔
اجلاس میں ای ٹرانسفر پالیسی، یکساں نصاب، سیمسٹر سسٹم، اساتذہ کی تربیت، سکول بیسڈ اسسمنٹ، مانیٹرنگ نظام، ورچوئل سکولنگ اور اے آئی کورسز پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ علاوہ ازیں شرح خواندگی میں اضافے اور جدید تعلیمی رجحانات کے فروغ کے لیے مجوزہ فریم ورک کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد کے لیے فالو اپ اجلاس بلانے اور متعلقہ حکام پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔
اجلاس میں پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا، صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب، ماہرین تعلیم اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔