پشاور یونیورسٹی نے ایک اہم انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے ڈپلومہ، سرٹیفکیٹ اور ویک اینڈ پروگرامز میں زیر تعلیم طلبہ اور نئے داخلہ لینے والے امیدواروں کے لیے تمام اقسام کی فیس رعایت، فیس چھوٹ اور استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اب ان پروگرامز میں زیر تعلیم کسی بھی طالب علم کو فیس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ یونیورسٹی ملازمین، ان کے اہل خانہ یا دیگر وابستہ افراد بھی فیس چھوٹ کی سہولت سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔ تمام طلبہ اور امیدواروں کو مقررہ فیس مکمل طور پر ادا کرنا ہوگی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ متعلقہ حکام کی سفارشات اور وائس چانسلر کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے، جس کا فوری اطلاق بھی کر دیا گیا ہے۔ نئی پالیسی موجودہ طلبہ اور آئندہ داخلہ لینے والے تمام امیدواروں پر یکساں طور پر نافذ ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق تمام ڈپلومہ پروگرامز، سرٹیفکیٹ کورسز اور ویک اینڈ پروگرامز پر ہوگا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ادارے کے مالی وسائل کو مستحکم بنانا، انتظامی امور میں بہتری لانا اور ان پروگرامز کو مالی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔
یونیورسٹی حکام کے مطابق مالیاتی پائیداری کے ذریعے تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں جاری رکھنے اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اس فیصلے کے بعد کم آمدنی والے اور مالی مشکلات کا شکار طلبہ پر اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تعلیمی حلقوں کے مطابق فیس رعایت کے خاتمے سے یونیورسٹی کے مالی معاملات میں بہتری آ سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے طلبہ کے لیے متبادل مالی معاونت یا اسکالرشپ پروگرامز کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے جو فیس کی مکمل ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے۔