پشاور(ویب ڈیسک) پشاور کی احتساب عدالت نے لینڈ مارکیٹنگ کے نام پر اربوں روپے کے فراڈ میں گرفتار دو ملزمان کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔احتساب عدالت کے جج محمد حامد مغل نے لینڈ مارکیٹنگ سکینڈل کیس کی سماعت کی جس میں 16 سو سے زائد افراد سے چار ارب روپے بٹورنے کے الزام میں گرفتار ملزمان عبدالوحید بٹ اور بلال حسن کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا گیا۔ نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے نام پر شہریوں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کیا اور دورانِ تحقیقات نیب کے ساتھ تعاون سے بھی گریز کیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ سٹار لینڈ مارکیٹنگ کمپنی کے مالک ملزم بلال حسن نے ایس ای سی پی میں رجسٹریشن کی آڑ میں اسلام آباد اور پشاور کی معروف ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی فروخت کا جھانسہ دے کر عوام سے اربوں روپے بٹور ے۔ تحقیقات کے مطابق پشاور، کوہاٹ، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے فیلڈ دفاتر سے جمع کی گئی رقم بینک الفلاح اور یو بی ایل کے 13 مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی، جہاں سے ملزم بلال نے تقریباً 10 ارب روپے نکلوائے۔ کیس میں اہم پیش رفت کے طور پر ملزم وحید کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی اہلیہ عطیہ جمیل کمپنی میں مینیجنگ ڈائریکٹر جبکہ وحید خود ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ ملزم وحید کے بینک اکاؤنٹس میں بھی 23 کروڑ روپے کی مشکوک ٹرانزکشنز پائی گئی ہیں، جبکہ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے لگژری گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ نیب کی جانب سے مرکزی ملزم بلال حسن کے اثاثے پہلے ہی منجمد کیے جا چکے ہیں جبکہ مفرور ملزمہ عطیہ جمیل کی تلاش جاری ہے۔عدالت نے نیب کے دلائل مکمل ہونے پر ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی۔