پشاور ہائیکورٹ نے ریگی ماڈل ٹاؤن کے رہائشی منصوبے میں پلاٹ خریدنے والوں کو 36 سال بعد بھی پلاٹس کے قبضے نہ دینے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر ڈی سی پشاور کو مسئلہ حل کرکے متاثرین کو پلاٹ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔
گزشتہ روز رٹ کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔رٹ کی سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی کمشنر پشاور، ڈی سی خیبر، وکیل پی ڈے اے اور درخواست گزاروں کے وکیل پیش ہوئے۔اس موقع پروکیل نے عدالت کوبتایا کہ صوبائی حکومت نے 1991 میں ریگی ماڈل ٹاون میں رہائشی منصوبے کا اغاز کیا اور سرکاری ملازمین سمیت عام شہریوں نے وہاں پر پلاٹس خریدے تاہم 36 سال گزر گئے ابھی تک پلاٹس مالکان کو فیز 3 اور فیز 4 میں پلاٹس نہیں ملے۔
انہوں نے عدالت کوبتایا کہ ریگی ماڈل ٹاون کے فیز ون، فیز 2 اور 5 میں لوگوں نے گھر بھی بنا لئے ہیں مگر ان دو فیزوں پر کوکی خیل قبیلے اور حکومت کے مابین تنازعہ ہے جو 36 سال بعد حل نہیں ہو رہا جس جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے استفسار کیا کہ گزشتہ سماعت سے اب تک اس کیس میں کیا پیشرفت ہوئی ہے۔؟ ڈی سی پشاور نے عدالت کوبتایا کہ ریگی ماڈل ٹاؤن کا یہ زون پشاور اور خیبر کے درمیان ہے،ریگی ماڈل ٹاؤن کی زمین کوکی خیل قبیلہ دینے سے انکاری ہے تنازعہ حل کرنے کے لئے کوکی خیل قبیلہ کے ساتھ جرگہ کر رہے ہیں، جرگے کے حتمی فیصلے کے بعد ہی زمین کی ڈی مارکیشن کی جائے گی ۔
متاثرین نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں پیسے واپس کریں، یا ہمیں کہیں اور پلاٹس دے دیں، جس پر جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے کہا کہ ہم آپ کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ بندوق اٹھا لیں، قانون کے راستے پر چلیں گے توڑا صبر کریں، آپ کو پلاٹس مل جائیں گے، ڈی سی صاحب آپ ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلہ کو حل کریں، عدالت نے ایک ماہ میں ڈی سی پشاور اور خیبر سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی