خیبرپختونخوا اسبملی میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے ممکنہ عبوری بجٹ پیش کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے نئے مالی سال کا بجٹ فوری اسمبلی میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد کا کہنا ہے کہ حکومت اسمبلی میں عددی برتری کھوچکی ہے حکومت نے غیر آئینی اقدام کی کوشش کی تو عدالت سے رجوع کیا جائے گا، خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس اسمبلی میں ہوا، جس میں آئینی و سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی لیڈرز نے شرکت کی، اپوزیشن لیڈر نے ڈاکٹر عباد اللہ خان نے کہا کہ ہم کسی صورت غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے، بجٹ پیش نہ کرنا عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ تحریک انصاف کا اندرونی معاملہ ہے، سالانہ بجٹ کو کسی شخصیت یا سیاسی معاملے سے مشروط کرنا مناسب نہیں، حکومت آئین کے مطابق مالی سال 2026-27 کا بجٹ فوری پیش کرے، آرٹیکل 120 کے تحت بجٹ پیش کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، بجٹ پیش نہ کیا گیا تو مشترکہ اپوزیشن بھرپور مخالفت کرے گی، خیبرپختونخوا حکومت فوری طور پر بجٹ پیش کرنے کی تاریخ کا اعلان کرے، عبوری بجٹ صوبے کے مسائل کا حل نہیں، حکومت مکمل بجٹ پیش کرے، اگر حکومت نے عبوری بجٹ لانے کا فیصلہ کیا تو سخت مخالفت کریں گے، صوبے کے عوام کو سیاسی معاملات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا، عوامی مفاد میں بروقت بجٹ پیش کرنا ناگزیر ہے، پی ٹی آئی صوبائی اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کھو چکی ہے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی آڑ میں صوبے کے عوام سے کھلواڑ قبول نہیں، صوبے کے معاملات سیاسی مفادات نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق چلائے جائیں، مشترکہ اپوزیشن آئین، جمہوریت اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے متحد ہے