پشاور کی خصوصی احتساب عدالت کے انتظامی جج محمد ظفر نے کوہستان میگا سکینڈل کے مرکزی کردار ایوب کی تین ارب 86 کروڑ روپے کے عوض پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی اور اس حوالے سے ضروری لوازمات پوری کرنے کے بعد ملزم کی رہائی کاحکم جاری کردیا عدالت عالیہ نے نیب جانب سے پلی بارگین کی درخواست کی توثیق کردی پلی بارگین میں سینیٹر اعظم سواتی کا بھیجا گیا گھر بھی شامل ہیں اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمدعلی پیش ہوئے اور عدالت کوبتایا کہ نیب نے کوہستان میگا کرپشن کیس کے مرکزی ملزم ایوب کو گرفتار کرلیا تھا جو اس وقت سنٹرل جیل میں زیر حراست میں ہیں ملزم نے نیب کو تین ارب 86 کروڑ روپے پلی بارگین کی درخواست دی اور یہ درخواست جسے سپرٹنڈنٹ کے زریعے بھیجی گئی ڈی جی نیب نے اسے باقاعدہ منظوری کے بعد چیئرمین نیب کو بھیجوا دیا اور چیئرمین نیب نے بھی اس کی منظوری دی تاہم اب یہ درخواست احتساب عدالت میں پلی بارگین کی توثیق کے لئے دائر کی گئی ہے انہوں نے عدالت کوبتایا کہ ملزم نے پلی بارگین کےلئے مختلف جائیدادیں گاڑیاں اور نقدی بطور ضمانت دی ہیں جبکہ مختلف جگہوں پر پراپرٹیز مالکان بھی اس کے حق میں عدالت ائیں ہیں اور وہ بھی اپنی مرضی سے پلی بارگین کےلئے بطور ضمانت مذکورہ جائیدادیں رکھنا چاہتے ہیں چونکہ نیب پہلے ہی متعدد ملزمان کی پلی بارگین کی درخواستیں بھی منظور کر چکی ہے اس لئے ایوب کی پلی بارگین کی درخواست بھی عدالت میں توثیق کے لئے جمع کی جائے چونکہ ان سے ریکوری کا طریقہ کار طے ہو چکا ہے اور باقاعدہ طور پر تمام امور طے پا گئے ہیں لہذا عدالت نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس پلی بارگین کی توثیق کرے عدالت نے اس ضمن میں باقاعدہ طور پر نیب کی جانب سے استدعاء منطور کردی نیب کے مطابق ملزم نے نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 25 (بی) کے تحت پلی بارگین کی درخواست دی، پلی بارگین میں سینیٹر اعظم سواتی کا بھیجا گیا گھر بھی شامل ہیں، ملزم کے نام پر ایک مختلف پراپرٹیز، پلاٹس، اور ایک لینڈ کروزر ہے،