خیبرپختونخوا میں شدید طوفان اور بعد ازاں بارش سے2 افراد جاںبحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 40 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی طوفانی اور گرد آلود ہواؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ شدید آندھی، بارش اور بعض علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں اچانک آنے والی شدید طوفانی ہواؤں کے باعث متعدد بجلی فیڈرز ٹرپ کر گئے، جس کے نتیجے میں شہر کے بیشتر علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔ مختلف مقامات پر درخت، دیواریں، سائن بورڈز اور بجلی کے کھمبے گر گئے جبکہ گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پینلز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق پشاور میں مختلف حادثات کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد زخمی ہوئے۔
بنوں میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں اور دیگر عمارتوں کی چھتیں اور دیواریں گر گئیں، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 20 افراد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو 1122 نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ہنگو میں فیڈرل کانسٹیبلری کی سنگر چیک پوسٹ پر آسمانی بجلی گرنے کے باعث 7 اہلکار زخمی ہوگئے، تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
شدید طوفان اور تیز ہواؤں کے باعث پشاور کے نواحی علاقوں میں پھلوں کے باغات کو بھی نقصان پہنچا، آم اور دیگر موسمی پھلوں کے درخت متاثر ہوئے جبکہ متعدد درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔ وسطی اضلاع میں گھروں اور دکانوں پر نصب سولر سسٹمز، شٹرز اور دیگر ڈھانچے بھی طوفان کی زد میں آ کر تباہ ہوگئے۔
طوفانی ہواؤں کے باعث کئی علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، سڑکوں پر ملبہ پھیل گیا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ اور ریسکیو ادارے نقصانات کا جائزہ لینے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔