پشاور (ویب ڈیسک) وزیر اعلی سہیل آفریدی کی جانب سے 9 مئی کو لیاقت باغ راولپنڈی میں سیاسی جلسے کے اعلان کے بعد جلسے کے لئے ممکنہ طور سرکاری وسائل استعمال کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ درخواست دائر کردی گئی جس میں وزیراعلی خیبر پختون خوا سہیل آفریدی، چیف سیکرٹری، سیکرٹری لاء، آئی جی پولیس اور انسپکٹر جنرل نیشنل ہائی وے اینڈ موٹرے پولیس کو فریق بنایا گیا ہے۔رٹ پٹیشن سابق ممبر صوبائی اسمبلی جاوید نسیم نے انوار الحق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہے ۔رٹ میں سیاسی جلسوں، احتجاج اور مارچ میں سرکاری وسائل کے استعمال کو روکنے کی استدعا کی گئی ہے ۔رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا نے 9 اپریل کو راولپنڈی لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان کیا ہےاور کہا ہے کہ اگر لیاقت باغ جلسے کی این او سی نہیں دیا گیا تو بھی جلسہ کیا جائے گا اور اس جلسے کو کسی صورت ملتوی نہیں کیا جائے گا۔رٹ کے مطابق خیبر پختون خوا حکومت جب بھی جلسہ کرتی ہے تو اس میں سرکاری وسائل استعمال کرتی ہے اور سرکاری ملازمین کو بھی شرکت کرنے کی ہدایات دیتی ہے اور اگر کوئی جلسے میں شرکت نہیں کرتا تو اس کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے۔ رٹ میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی جب اسلام آباد پر چڑھائی کی جاتی تھی تو خیبر پختون خوا کے سرکاری محکموں سے بھاری مشینری اور دیگر سامان لیکر جاتے تھے جبکہ ریسکیو 1122 اور پی ڈی اے کی گاڑیاں پہلے سے صوابی تک پہنچا دی جاتیں تھی جبکہ 24 مئی کے احتجاج کے دوران اسلام اباد پولیس نے ان گاڑیوں کو تحویل میں بھی لیا تھا ۔رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فریقین کو سیاسی جلسوں میں سرکاری گاڑیوں، مشینری اور دیگر سرکاری وسائل استعمال سے روکا جائے کیونکہ پشاور ہائیکورٹ نے پہلے ہی سیاسی اجتماعات میں سرکاری وسائل استعمال اور سڑکوں کی بندش کو غیر قانونی قرار دیا ہے،وزیراعلی کو سرکاری گاڑیاں اور وسائل ذاتی اور سیاسی مقاصد استعمال سے روکا جائے۔عدالت فریقین کو احکامات جاری کریں کہ سڑکوں ہائی ویز اور موٹروے پر ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہوں۔رٹ کی سماعت آئندہ چند روز میں ہو گی