ضلع ٹانک میں تعلیمی اداروں پر دہشتگردی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز ضلع ٹانک میں ایک اور سرکاری سکول کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد رواں سال کے ابتدائی ساڑھے چار ماہ کے دوران متاثر ہونے والے تعلیمی اداروں کی تعداد 8 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ان اداروں کی دوبارہ تعمیر تاحال ایک خواب بنی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلع ٹانک کی جندولہ سب ڈویژن کے علاقے کمدا بک میں شدت پسندوں نے سرکاری گرلز پرائمری سکول کو بارودی مواد کے ذریعے نشانہ بنایا۔ دھماکے کے نتیجے میں سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
رواں سال کے دوران یہ آٹھواں تعلیمی ادارہ ہے جو دہشتگردی کا نشانہ بنا ہے۔ مسلسل حملوں نے نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ طلباء و طالبات، اساتذہ اور والدین میں بھی عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق بیشتر متاثرہ سکولوں کی بحالی یا تعمیر نو کے لیے ابھی تک عملی اقدامات نہیں اٹھائے جا سکے، جس کے باعث سینکڑوں بچے تعلیم سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ٹانک میں تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ سکولوں کی فوری تعمیر نو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔