پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے 24 سرکاری ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آؤٹ سورس کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف دائر چھ آئینی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی حکومتی پالیسی آئین اور قانون کے مطابق ہو تو عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
رٹ درخواستوں کی سماعت پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید شامل تھیں، نے کی۔ 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجاز انور نے تحریر کیا۔
درخواستیں گزشتہ سال متعدد شہریوں اور وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جن میں جمال ناصر اور نعمان یوسف سمیت دیگر شامل تھے۔ درخواست گزاروں نے خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے 24 سرکاری ہسپتالوں کی انتظامی آؤٹ سورسنگ کے لیے جاری کیے گئے اظہارِ دلچسپی (EOI) کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ سے غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے سستی اور مفت طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور اس اقدام سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی حکومت اور خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کی جا رہی بلکہ صرف انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے آؤٹ سورسنگ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی ملکیت، نگرانی اور پالیسی کنٹرول حکومت کے پاس ہی برقرار رہے گا جبکہ مریضوں کو سرکاری پالیسی کے مطابق مفت علاج اور طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں گی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اعلیٰ عدلیہ متعدد مواقع پر یہ اصول طے کر چکی ہے کہ پالیسی سازی حکومت کا اختیار ہے اور عدالتیں صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتی ہیں جب کوئی پالیسی آئین یا قانون سے متصادم ہو۔ فیصلے میں سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پالیسی معاملات میں تکنیکی مہارت، وسائل کی تقسیم اور انتظامی ترجیحات جیسے پیچیدہ عوامل شامل ہوتے ہیں جن کا تعین حکومت کا کام ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات، انتظامی اصلاحات اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق فیصلے حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں جبکہ عدلیہ کا کردار قانون کی تشریح اور اس کے نفاذ تک محدود ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ سے عوام کو بہتر طبی سہولیات ملیں گی یا نہیں، اس کا جائزہ لینا اور اس کے نتائج کا تعین کرنا صوبائی حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ صحت کے شعبے سے متعلق ایسے معاملات خصوصی نوعیت کے حامل ہیں جن میں تکنیکی اور انتظامی مہارت درکار ہوتی ہے، جبکہ متعلقہ ماہرین اس منصوبے کی سفارش کر چکے ہیں۔
بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ حکومتی اقدام سے ان کے کسی بنیادی، آئینی یا قانونی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اسی طرح حکومتی فیصلے میں کسی قسم کے امتیاز، بدنیتی یا من مانی کے شواہد بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔
ان وجوہات کی بنیاد پر پشاور ہائی کورٹ نے تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے حکومت کے آؤٹ سورسنگ پروگرام کے خلاف عدالتی مداخلت سے گریز کیا۔