پشاور (ویب ڈیسک) پشاور کی احتساب عدالت نے ادویات اور سرجیکل آئٹمز میں مبینہ اربوں روپے کے کرپشن اسکینڈل میں ملوث سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر شوکت علی کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔
احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے کیس کی سماعت کی، جس دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ڈاکٹر شوکت علی نے اپنے دورِ ملازمت کے دوران ادویات اور سرجیکل آئٹمز کی خریداری میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں کیں۔
نیب کے مطابق ملزم نے خریداری کے نام پر اربوں روپے نکلوائے، تاہم گراؤنڈ پر ادویات اور سرجیکل سامان موجود نہیں پایا گیا۔ پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ اس عمل کے ذریعے قومی خزانے کو تقریباً 3.6 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عبوری ضمانت کی درخواست خارج کردی، جس کے فوری بعد نیب حکام نے ملزم کو کمرہ عدالت سے حراست میں لے لیا۔