محرم الحرام 1448 ہجری کے چاند کی رویت کے سلسلے میں آج ملک بھر کی نظریں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر مرکوز ہیں۔ یہ اجلاس بادشاہی مسجد میں منعقد ہوگا، جس کی صدارت مولانا سید عبدالخبیر آزاد کریں گے۔
اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے حکام کے علاوہ محکمہ موسمیات، سپارکو اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ یہ ادارے چاند کی پیدائش، عمر، غروبِ آفتاب کے وقت اس کی پوزیشن اور رویت کے امکانات سے متعلق سائنسی و تکنیکی معلومات فراہم کریں گے۔
ملک بھر میں قائم زونل اور ضلعی رویت ہلال کمیٹیاں بھی اپنے اپنے علاقوں میں اجلاس منعقد کریں گی۔ اگر کسی مقام پر چاند نظر آنے کی معتبر شہادت موصول ہوتی ہے تو اسے مرکزی کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔ بعد ازاں مرکزی کمیٹی تمام شہادتوں اور تکنیکی معلومات کا جائزہ لے کر محرم الحرام کے آغاز کا باضابطہ اعلان کرے گی۔
اس فیصلے کی بنیاد پر نئے اسلامی سال 1448 ہجری کے آغاز اور یومِ عاشور (10 محرم) کی تاریخ کا تعین ہوگا۔ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسے اسلامی تاریخ میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اسی مہینے میں واقعۂ کربلا پیش آیا، جس کی یاد میں دنیا بھر کے مسلمان بالخصوص 9 اور 10 محرم کو مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب میں بھی آج شام محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے متعلقہ کمیٹیوں کا اجلاس ہوگا۔ اگر چاند نظر آ گیا تو یکم محرم اگلے روز سے شروع ہو جائے گی، بصورت دیگر ذوالحجہ کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔
محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ایک اہم روایت بھی ادا کی جاتی ہے، جس کے تحت خانہ کعبہ کے غلاف، یعنی کسوہ، کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ عمل ذوالحجہ میں انجام دیا جاتا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں اسے یکم محرم کے موقع سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس کے باعث نئے اسلامی سال کے آغاز پر یہ روح پرور منظر دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا حتمی اعلان ہی یہ طے کرے گا کہ پاکستان میں یکم محرم کب ہوگی اور یومِ عاشور کس تاریخ کو منایا جائے گا۔