پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کا نام تبدیل کر کے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم رکھنے کے خلاف دائر درخواست پر صوبائی حکومت کی جانب سے جواب جمع کرنے کے لئے مہلت کی استدعاء منظور کرتے ہوئے اگلی پیشی پر جواب طلب کرلیا اور قرار دیا کہ اگلی پیشی پر اس کیس کو سن کر فیصلہ جاری کردیا جائے گا ۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے رٹ کی سماعت کی ۔دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور درخواست گزار کے وکیل علی گوہر درانی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کوبتایا گیا کہ حکومت نے گزشتہ سماعت پر بھی کہا تھا کہ رپورٹ جمع کریں گے اب تو سٹیڈیم میں صوبائی اسمبلی اجلاس کا بھی ہورہا ہے اے جی آفس نے ڈی جی سپورٹ کو لیٹر لکھا ہے، کہ نیمنگ اینڈ ری نیمنگ آف پبلک پلیسز رولز 1994 میں ترمیم کریں خط میں لکھا ہے کہ لوکل کونسل رولز میں ترمیم کریں ۔علی گوہردرانی نے بتایاکہ لوکل کونسل رول 5 کے مطابق کسی جگہ کا نام ایک بار تبدیل کیا جائے تو اس کو 50 سال تک تبدیل نہیں کیا جاسکتا اب اے جی آفس نے لیٹر لکھا ہے کہ رولز 5 میں ترمیم کرکے اس کو 50 کی بجائے 30 دن کیا جائے ۔جس پر جسٹس سید ارشدعلی نے کہا کہ یہ رولز میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے وکیل درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم شاہی باغ رکھا گیا ہے جسکی منظوری صوبائی کابینہ نے21 فروری 2025 کو دی حالانکہ یہ اقدام ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی گائیڈ لائن کے خلاف ہے ۔اس گائیڈ لائن کے مطابق عوامی اثاثوں کو کسی زندہ شخص کے نام سے منسوب نہیں کیا جاسکتا ارباب نیاز سٹیڈیم 1984 میں تعمیر کیا گیا اس کا پہلے نام شاہی باغ کرکٹ سٹیڈیم تھا، تاہم 1987 میں یہ تبدیل کرکے ارباب نیاز رکھا گیا ۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے بھی صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور ارباب نیاز سٹیڈیم خیبرپختونخوا کا واحد انٹرنیشل کرکٹ گراؤنڈ ہے جہاں پر 1984 سے 2006 تک اس گراؤنڈ پر 15 ون ڈے اور 6 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے آخری میچ پاکستان اور پاکستان کے درمیان فروری 2006 میں ہوا اس کے بعد کوئی انٹریشنل میچ نہیں ہوا ۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس کیس میں جواب جمع کریں گے انہیں تھوڑی مہلت دی جائے جس پر جسٹس سید ارشدعلی نے کہا کہ صوبائی حکومت آئندہ سماعت تک رپورٹ جمع کریں، اس کیس کو آئندہ سماعت پر سنیں گے۔