پشاور(ویب ڈیسک) پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے سیاسی جلسوں میں سرکاری وسائل استعمال کرنے کے خلاف دائر رٹ پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد میں کیا ہورہا ہے اور دنیا میں جو حالات ہےاس کا خیال رکھیں پشاور ہائیکورٹ نے اس حوالے سے پہلے بھی فیصلہ جاری کیا ہے اگر ضروری ہوا تو صوبائی حکومت سے ہم کسی زمہ داری افسر کو طلب کریں گے ۔رٹ کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزداہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔اس موقع پر درخواست گزار جاوید نسیم کے وکیل انوار الحق اور ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا نے 9 اپریل کو راولپنڈی لیاقت باغ میں عوامی اجتماع کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر لیاقت باغ جلسے کی این او سی نہیں دی گئی تو پھر بھی لوگ جہاں ہونگے وہاں پر احتجاج کریں گے ۔انہوں نے بتایاکہ سیاسی اجتماعات میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے کارکنان کے لئے گاڑیاں سرکاری پیسوں پر بک ہوتی ہیں جبکہ ہر منتخب ممبر کو 5 سو کارکنان ساتھ لانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے ان سیاسی اجتماعات میں سرکاری وسائل ستعمال کئے جاتے ہیں جو کہ غیرائینی اور غیرقانونی ہے۔انوار الحق ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان جلسوں کی وجہ سے سڑکیں بھی بند ہوتی ہیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مریض بھی ایمبولینسز میں خوار ہوتے ہیں۔ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے پہلے بھی فیصلہ جاری کیا ہے، اسلام آباد میں کیا ہورہا ہے، اور دنیا میں جو حالات ہے، اس کا خیال رکھیں۔ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختون خوا نے عدالت کوبتایا کہ اس عدالت نے پہلے بھی فیصلہ دیا ہم نے اس پر عمل درآمد کیا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ کیسے عمل درآمد کیا ہے اسلام آباد میں کل رات سے احتجاج کی تیاری ہورہی ہے،صوبائی وزراء اور متوقع وزراء کے پی ہاؤس میں سرکاری خرچ پر ڈیرے ڈال کر بیٹھے ہیں۔اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کو شیلڈ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل صاحب بتا دیں کہ اگر عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد ہوا ہے تو پھر کیسے یہ سرکاری وسائل کا استعمال ہورہا ہے لہذا عدالت اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ جاری کریں اور کسی کو سیاسی مقاصد کے لئے سرکاری وسائل استعمال کی اجازت نہ دیں۔ جس پر جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو صوبائی حکومت سے ہم کسی زمہ داری افسر کو طلب کرے گے۔عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا