پشاور میں سینئر ڈاکٹر اور معروف یورولوجسٹ ڈاکٹر آصف ملک پر قاتلانہ حملے کے کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات میں واقعے کو مالی تنازع کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے کیس کو ٹریس کرتے ہوئے مرکزی ملزم سلطان رضا جان اور اس کے ڈرائیور شفقت حسین کو ضلع کوہاٹ سے گرفتار کیا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی اور اسلحہ بھی برآمد کر لیا ہے۔
سی سی پی او کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر آصف ملک کے ساتھ مالی تنازع کی بنا پر ان پر حملہ کیا گیا۔ مزید تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق 31 مارچ کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت ڈاکٹر آصف ملک پر فائرنگ کی جب وہ یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں اپنے کلینک سے گھر واپس جا رہے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے اور انہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
واقعے کا مقدمہ ٹاؤن تھانے میں ڈاکٹر آصف کے بیٹے یوسف ملک کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے کر مختلف پہلوؤں پر تحقیقات شروع کیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا، جس کے بعد کامیاب کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آصف ملک کا تعلق ایک معروف خاندان سے ہے، وہ سابق آئی جی پولیس ملک نوید اور شہید پولیس افسر ملک سعد کے بھائی ہیں، جبکہ ان کے ایک اور بھائی ملک اسد بھی گزشتہ سال نامعلوم افراد کی فائرنگ میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔