صوبائی دارالحکومت پشاور میں عیدالاضحیٰ سے قبل کانگو وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری پشاور کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق 27 سالہ شہری میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد صوبے بھر کے اسپتالوں اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ مریض گزشتہ چند روز سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں زیر علاج تھا، جہاں اس کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے۔ گزشتہ روز موصول ہونے والی رپورٹ میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کردی گئی، جس کے بعد مریض کو آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے قریبی افراد کی نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے قریب آتے ہی ملک بھر خصوصاً خیبرپختونخوا میں مویشیوں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت شروع ہو جاتی ہے، جس کے باعث کانگو وائرس کے پھیلنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع سے ہزاروں جانور پشاور اور دیگر شہروں کی مویشی منڈیوں میں لائے جا چکے ہیں، جہاں مناسب احتیاط نہ ہونے کی صورت میں وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق کانگو وائرس عموماً متاثرہ چیچڑ، جانوروں کے خون یا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس خاص طور پر قصابوں، مویشی پال افراد، ویٹرنری عملے اور قربانی کے جانوروں کے قریب رہنے والے افراد کے لیے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔
محکمہ صحت نے تمام اسپتالوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ مشتبہ مریضوں کی فوری تشخیص، اسکریننگ اور آئسولیشن کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ مویشی منڈیوں میں اسپرے، صفائی اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ جانوروں کو ہاتھ لگاتے وقت دستانے استعمال کریں، چیچڑ سے بچاؤ کے لیے جانوروں پر اسپرے کروائیں اور قربانی کے دوران خون یا آلائشوں سے براہ راست رابطے سے گریز کریں۔ شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ بخار، جسم درد یا غیر معمولی کمزوری کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔
واضح رہے کہ کانگو وائرس ایک خطرناک متعدی بیماری ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس بیماری کے پھیلاؤ کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔