ایبٹ آباد:
ویمن اینڈ چلڈرن اسپتال
سے اغوا ہونے والے نومولود بچے کو پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر بازیاب کر لیا، جبکہ واقعے میں ملوث 4 ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 23 جون کو ویمن اینڈ چلڈرن اسپتال ایبٹ آباد کی نرسری سے ایک نومولود بچے کے اغوا کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد بچے کے اہل خانہ میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی لواحقین نے اسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے بچے کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
واقعے کی سنگینی کے پیش نظر پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا اور مختلف شواہد، نگرانی کے نظام اور دیگر ذرائع کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگا لیا۔ ہارون الرشید نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے نومولود کو بحفاظت بازیاب کر لیا ہے۔
ڈی پی او کے مطابق پولیس نے اس کیس میں 4 ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں مرکزی ملزمہ اور اس کا شوہر بھی شامل ہیں۔ پولیس نے وہ گاڑی بھی قبضے میں لے لی ہے جس کے ذریعے بچے کو اسپتال سے لے جایا گیا تھا۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزمہ کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اور اسی محرومی کے باعث اس نے نومولود بچے کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ڈی پی او ایبٹ آباد نے اسپتال انتظامیہ کی غفلت پر بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے وقت وارڈ میں کوئی عملہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، جو ایک سنگین انتظامی کوتاہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام میں موجود خامیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔