خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کے عمل کو مزید مؤثر اور تیز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ 30 سے 45 دن کے اندر اپنی ذمہ داریاں مکمل کریں اور پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کریں۔
معاون خصوصی طارق سعید کے مطابق حکومت کا مقصد یہ ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کا عمل مکمل طور پر قانونی، منظم اور شفاف انداز میں انجام دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ مقررہ مدت کے اندر اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
حکام کے مطابق اس وقت افغان مہاجرین کے عارضی کیمپ پشاور، چارسدہ، کوہاٹ اور ہنگو میں قائم ہیں۔ ان کیمپوں میں مقیم افراد کے معاملات مرحلہ وار نمٹائے جا رہے ہیں، جبکہ شناخت، دستاویزات اور قانونی حیثیت سے متعلق امور کی جانچ بھی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ویزوں، رہائشی دستاویزات اور قیام سے متعلق متعدد زیر التواء کیسز پر بھی کام ہو رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور اسپیشل برانچ کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ قانونی اور انتظامی تقاضے جلد از جلد مکمل کریں اور ہر کیس کو قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹائیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واپسی کا یہ عمل صرف انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کو باعزت اور پُرامن انداز میں یقینی بنانا ہے۔ حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس دوران کسی قسم کی افراتفری، بدنظمی یا انسانی مسائل پیدا نہ ہوں اور تمام اقدامات ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی اصولوں کے مطابق کیے جائیں۔
مزید برآں، حکومت نے اس پورے عمل کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اور اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو محرم الحرام کے بعد منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں مختلف اداروں کی کارکردگی، واپسی کے عمل میں درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
مجموعی طور پر حکومتِ خیبرپختونخوا نے افغان شہریوں کی واپسی کے لیے ایک واضح ٹائم فریم مقرر کیا ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر تمام ضروری کارروائیاں مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔