سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید الطاف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے پر یشو یش کا اظہار کرتے ہو ئے پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجنٹ تک لا نے کا مطا لبہ کیا ہے تا کہ ملک بھر با لخصو ص خیبر پختو نخوا میں صنعتوں کی بحالی، کاروبارکی بحا لی ممکن ہو سکے بلکہ کار وبار میں آسانی اور معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے ۔ سر حد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے گذشتہ روز اسٹیٹ بنک کی جا نب سے پا لیسی ریٹ کو بر قر ا ر رکھنے کے فیصلے پر اپنے ر رعمل کا اظہار کرتے ہو ئے حکو مت اورمرکزی بینک شر ح سو د کو زمینی حقائق کو مد نظر ر کھتے ہوئے کمی لا نے پر زور دیا ہے ۔ انھو ں نے خبردار کیا کہ مو جو دہ 11.5 فیصدشرح سود کا موجودہ نظام معیشت کی صو رت بھی مو ز و ں نہیں ہے اور ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈال رہا ہے۔انہوں نے مز ید کہا شرح سود، بجلی کے نرخوں میں کمی اور برآمدات کے فر وغ پر مبنی ترقی کے زر یعے ہی کاروبار کے ساز گا ر ماحول پیداکر نے پر زور دیا ہے۔ صدر جنید الطاف نے سرکاری اعداد و شمار اور رپورٹس اقتصادی اشاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے مہنگائی کی شرح پانچ فیصد سے نیچے رہنے کو کہا اور دلیل پیش کی گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد پالیسی ریٹ مکمل طور پر ناقابل جواز ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی شرح سود علاقائی حریفوں سے تقریباً دوگنی ہے۔جنید الطاف نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری نے مسلسل خدشات کا اظہار کیا ہے کہ قرض لینے کے زیادہ اخراجات اہم چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتا یا تاجروں کو غیر ملکی صورتحال میں چھوڑ دیا جاتا ہے جب بین الاقوامی حریفوں کا مقابلہ کرتے ہیں جو قرض دینے کے زیادہ سازگار حالات میں کام کرتے ہیں اورپالیسی ریٹ میں کمی کی اہم وجوہات اور زمینی حقائق بتاتے ہوئے ۔صدر جنید الطاف نے کہا کہ کاروباری برادری پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا طویل عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ کرنسی کی قدر میں اضافے کے علاوہ میکرو اکنامک انڈیکیٹرز کی حمایت اور ملکی طلب میں اضافے، صنعتی سرگرمیوں میں بہتری با لخصو ص پا کستا ن کی ایر ان، امر یکہ ثا لثی اثر میں مہنگا ئی میں کمی کے ا مکا نا ت ہوسکتے ہیں جو کہ بین الاقوامی میں تیل اور گیس کی قلت کو کم کر یگے۔ مزید برآں، انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے کھرب روپے کے ملکی قرضوں کا دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی کی طرف لے جائے گی اور کاروبار اور صنعتیں تیزی سے ترقی کریں گی۔تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پالیسی سازوں کی طرف سے خدشات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے، اور کاروباری برادری نے پالیسی ریٹ میں جمود پر ہمیشہ ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جنید الطاف کے مطابق، تاجر اب بھی کام کر رہے ہیں، لیکن منافع کا مارجن بہت کم ہو رہا ہے، جس سے فرموں کے لیے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے۔سر حد چیمبر کے صدر اسٹیٹ بنک پر زور دیا کہ وہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر لائے، جس کا ہدف اگلے تین سے چار ماہ تک 6 فیصد رکھا جائے، پاکستان کو علاقائی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے اور اقتصادی صلاحیت کو کھولا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ شرح سود میں کمی سے نہ صرف ملکی قرضوں کی فراہمی کے اخراجات میں نصف کمی آئے گی بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کو عالمی منڈیوں میں مسابقتی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ معا شی ا عشا ریہ مثبت اور بیر ونی ا کا و نٹس میں بہتری آنے کی و جہ سے معا شی سر گر میو ں میں بڑ ھا نے کی امکا نا ت ر وشن ہیں۔