باڑہ سیاسی اتحاد کا 12 مئی کو پشاور میں “امن پاسون” کا اعلان
جمرود: باڑہ سیاسی اتحاد نے تیراہ اور باڑہ کے مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف 12 مئی کو پشاور میں “امن پاسون” کے انعقاد کا اعلان کردیا۔ اس سلسلے میں ضلع خیبر کے تمام اقوام کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے باڑہ سیاسی اتحاد کے عہدیداران حاجی شیرین آفریدی، ملک عطاء اللہ آفریدی، ملک سید غا جان کوکی خیل، چراغ آفریدی، ایڈووکیٹ فرہاد آفریدی اور دیگر نے کہا کہ تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے مسائل تاحال حل نہیں ہوسکے اور متاثرین ابھی تک در بدر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب باڑہ کے علاقوں اکاخیل اور قمبر خیل میں بھی بدامنی میں اضافہ ہورہا ہے، جس کے باعث لوگ دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہورہے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو صوبائی و وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا۔
رہنماؤں نے بتایا کہ تیراہ متاثرین کو واپسی کے لیے 25 اپریل کی تاریخ دی گئی تھی، تاہم اپریل ختم ہونے کے باوجود واپسی کے کوئی واضح امکانات نظر نہیں آرہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور وزیراعلیٰ کو اپنے اختیارات استعمال کرکے باڑہ میں امن قائم کرنا چاہیے۔
انہوں نے منتخب نمائندوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ کے بعد باڑہ اکاخیل اور قمبر خیل میں بدامنی کے معاملے پر منتخب نمائندے مکمل خاموش ہیں، نہ کوئی مؤثر لائحہ عمل بنایا جارہا ہے اور نہ ہی عوامی مسائل پر آواز اٹھائی جارہی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران تیراہ آئی ڈی پیز کے لیے اعلان کردہ 4 ارب روپے کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ متاثرین کی بڑی تعداد کو ابھی تک کسی قسم کی مالی امداد نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ پشاور میں ہونے والے “امن پاسون” میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ باڑہ میں امن و امان قائم رکھنے اور بدامنی کے خاتمے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اور آیا صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور عسکری قیادت اپنی ذمہ داریاں پوری کررہی ہیں یا نہیں۔
باڑہ سیاسی اتحاد کے مطابق 12 مئی بروز منگل باڑہ سے عوام امن پاسون کی شکل میں پشاور جائیں گے اور وہاں اپنے مطالبات اور مسائل اجاگر کریں گے۔