گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں کیلئےانتخابی میدان سج گیا، پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گی،
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، 349 پولنگ اسٹیشن حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں کیلئے مجموعی طور پر 400 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں، مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
پیپلز پارٹی 23 ، ن لیگ 22، استحکامِ پاکستان پارٹی 15، پاکستان مسلم لیگ11 اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوار میدان میں ہیں۔
ایم ڈبلیو ایم 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6 ،6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات انتخابات کیے گئے ہیں، مقامی پولیس، جی بی اسکاٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی سکیورٹی کے لیے موجود ہے، انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فلیگ مارچ کیا گیا۔
جی بی اے 1گلگت میں پی پی کے امجد حسین،ن لیگ کے شفیق الدین، آئی پی پی کے سلطان رئیس اور آزادامیدوار آصف عثمانی میں سخت مقابلہ متوقع ہے، جی بی اے 2گلگت میں ن لیگ کے حافظ حفیظ الرحمن، پی پی کے جمیل احمد، آئی پی پی کے فتح اللہ اور آزاد امیدوار عتیق پیرزادہ میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔
جی بی اے18 دیامر میں سابق وزیراعلی گلگت بلتستان اور آئی پی پی کے امیدوار گلبرخان کا مقابلہ ن لیگ کے کفایت الرحمن سے ہے۔
جی بی اے 19 غذر میں آزاد امیدوار نواز خان ناجی، پی پی کے جلال شاہ اور ن لیگ کے ظفر محمد اہم امیدوار ہیں، اسی طرح جی بی اے 13 استور میں آزاد امیدوار شاہدہ خورشید، ن لیگ کے رانا فرمان علی اورپی پی پی کے فہد حنیف اہم امیدوار ہیں۔
دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کرکے انتخابی عمل، سکیورٹی انتظامات اور پولنگ کے ماحول کا جائزہ لیا۔