پنجاب کا 5 ہزار 131 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبوں پر خصوصی توجہ
لاہور: پنجاب اسمبلی میں آج مالی سال 2026-27 کے لیے 5 ہزار 131 ارب روپے کا بڑا بجٹ پیش کیا جائے گا، جس میں ترقیاتی، سماجی اور فلاحی شعبوں کے لیے متعدد اہم اعلانات متوقع ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن بجٹ تقریر کے دوران سالانہ مالیاتی گوشوارہ، ضمنی بجٹ 2025-26 اور مالیاتی بل بھی ایوان میں پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قابل تقسیم محاصل کی مد میں 3 ہزار 793 ارب روپے جبکہ صوبائی آمدن کی مد میں 1 ہزار 330 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مجموعی اخراجات 3 ہزار 569 ارب روپے سے زائد رہنے کی توقع ہے۔ وفاقی سطح پر ترقیاتی بجٹ میں رعایت کے بعد صوبے کے ترقیاتی اخراجات محدود ہو کر 47 فیصد رہ گئے ہیں۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے 7 فیصد تنخواہوں میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 650 ارب روپے جبکہ پنشن کی مد میں 505 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح پنجاب فنانس کمیشن کے لیے 800 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
صحت کے شعبے کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 680 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں سے 100 ارب روپے مفت ادویات کی فراہمی کے لیے رکھے جائیں گے تاکہ عوام کو بہتر اور سستی طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
تعلیم کے شعبے کے لیے 900 ارب روپے سے زائد کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ طلبہ کی سہولت اور جدید تعلیم کے فروغ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم، الیکٹرک اسکوٹی اسکیم، سائیکل اسکیم اور ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے بھی خطیر رقم مختص کیے جانے کی توقع ہے۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 20 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
سماجی تحفظ اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 150 ارب روپے، رمضان پیکیج کے لیے 35 ارب روپے اور مختلف سبسڈی پروگراموں کے لیے 80 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ زرعی شعبے کی معاونت کے لیے کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے جبکہ ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈز کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب کے جاری منصوبوں کے لیے 200 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ بیرونی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔
حکومت پنجاب کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، تعلیم و صحت کے نظام میں بہتری، سماجی تحفظ کے فروغ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ بجٹ پیش ہونے کے بعد اس پر اسمبلی میں تفصیلی بحث بھی متوقع ہے