امریکہ اور ایران میں لفظی جنگ کی وجہ سے کشیدگی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی کے ختم ہونے میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں، اس لئے ثالث ممالک کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کا دوسر ادور ہو اور اس دوران معاملات طے پا سکیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دھمکی دی گئی ہے کہ معاہدہ طے نہ پایا اور ڈیل نہ ہوئی تو جنگ ہوگی، اور بم پھٹیں گے، جس پر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میدان جنگ میں نئے کارڈز سامنے لانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔
یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دورپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونا تھا، غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی پرچم بردار جہاز کو قبضے میں لے لیا، جس پر تہران نے سخت احتجاج کیا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔
اس صورتحال میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ الجزیرہ نے رپورٹ دی ہے کہ ابھی تک اس بات کی سرکاری تصدیق نہیں کہ ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا یا نہیں، سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
ادھر ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایران دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرے گا اور اگر ضرورت پڑی تو میدان میں اپنی نئی حکمت عملی سامنے لائے گا، جبکہ صدر ٹرمپ زور دے رہے ہیں کہ ایران کو مذاکرات کرنا ہوں گے، ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عالمی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں کئی پیچیدہ مسائل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز، پابندیاں، جنگی معاوضے، میزائل پروگرام اور خطے میں اثر و رسوخ جیسے حساس معاملات شامل ہیں، تاہم اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر دوبارہ حالات قابو سے باہر نکلے تو حالات توقع سے کہیں زیادہ خراب ہو سکتے ہیں