پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور شہر کی عظمتِ رفتہ بحال کرنے اور شہری سہولیات بہتر بنانے کے لیے پشاور ریوائٹلائزیشن پروگرام کو مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں شامل کر لیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق اس پروگرام کے تحت 29 ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے متعدد بڑے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ انٹرسیکشن پر لیول ٹو فلائی اوورز کی تعمیر کے لیے 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح رنگ روڈ کے مختلف مقامات پر انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے 4 ارب 80 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پشاور کے نئے رنگ روڈ منصوبے کو بھی بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
شہر کے اہم مقامات رامداس چونگی، لاہوری چوک اور یونیورسٹی روڈ پر انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے 3 ارب 79 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ رنگ روڈ کے مسنگ لنک فیز تھری کی تعمیر کے لیے ڈیڑھ ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں پشاور شہر کے بجلی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے بجلی کی تاروں کو زیر زمین منتقل کرنے کے منصوبے کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
شہریوں کو جدید ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے کے لیے پشاور میں مفت پبلک وائی فائی سروس شروع کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
حکومت کے مطابق پشاور ریوائٹلائزیشن پروگرام کا مقصد شہر کے ٹریفک نظام کو بہتر بنانا، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا، شہری سہولیات میں اضافہ کرنا اور تاریخی شہر پشاور کو دوبارہ ایک فعال اور خوبصورت شہری مرکز کے طور پر ترقی دینا ہے۔