وفاقی تحقیقاتی ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے خیبر پختونخوا سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور قوانین کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں تین کنٹریکٹرز کو بطور گواہ طلب کرلیا
۔نیب کی جانب سے جاری کیے گئے تین الگ الگ کال اپ نوٹسز میں متعلقہ کمپنیوں کے ذمہ داران کو 22 ستمبر کو نیب خیبر پختونخوا کے دفتر حیات آباد پشاور میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔نیب کے نوٹسز کے مطابق تحقیقات پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ خیبر پختونخوا سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ ور دیگر متعلقہ افراد کے حوالے سے مالی بے قاعدگیوں اور مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ قابل اعتماد ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر نیب کے مجاز حکام نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کی ہیں۔نیب نے تین مختلف جوائنٹ وینچرز کے ذمہ داران کو کیس کے حقائق اور حالات سے واقف ہونے کے باعث بطور گواہ طلب کیا ہے۔
نوٹسز میں متعلقہ افراد کو اپنے زیر استعمال بینک اکاو¿نٹس کی تفصیلات اور منصوبے سے متعلق دیگر ضروری معلومات اور ریکارڈ ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تینوں افراد کو بالترتیب 22 ستمبر کو صبح 10، 11 اور 12 بجے نیب خیبر پختونخوا کے انکوائری ونگ کے متعلقہ افسر کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔
نیب نے نوٹس میں واضح کیا ہے کہ طلبی کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنا، انکوائری میں رکاوٹ ڈالنے، اسے گمراہ کرنے یا متاثر کرنے کے مترادف تصور کیا جائے گا اور ایسی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 31 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے، جس میں دس سال تک سزا کی گنجائش موجود ہے۔