کوہستان مالیاتی سکینڈل کے مبینہ مرکزی ملزم قیصر اقبال کی مرضی کا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو ہدایات لینے اور آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دے دیا۔
درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نوید احمد خان خانخیل، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد علی اور سپیشل پراسیکیوٹر نیب ارباب کلیم اللہ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قیصر اقبال طبی معائنے اور بہتر علاج کے لیے اپنی مرضی کا میڈیکل بورڈ تشکیل دینا چاہتے ہیں۔
وکیل کے مطابق نیب کی حراست کے دوران بھی قیصر اقبال کو انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا، جبکہ انہیں متعدد مرتبہ جیل سے بھی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اس موقع پر جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے ذریعے علاج چاہتے ہیں یا ضمانت مانگ رہے ہیں؟
وکیل نے واضح کیا کہ درخواست گزار صرف اپنی مرضی کا میڈیکل بورڈ چاہتے ہیں تاکہ انہیں مناسب اور درست علاج فراہم کیا جاسکے۔
یہ ملزم کا بنیادی حق ہے
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کو اپنی مرضی کے ہسپتال میں علاج کی اجازت دی جانی چاہیے۔
جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ کچھ لوگ عام ہسپتال میں علاج نہیں کرانا چاہتے اور اپنی مرضی کے ہسپتال میں علاج کروانا چاہتے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ ملزم کا بنیادی حق ہے کہ اسے مرضی کا علاج فراہم کیا جائے۔
سپیشل پراسیکیوٹر نیب ارباب کلیم اللہ نے عدالت کو بتایا کہ قیصر اقبال نے احتساب عدالت میں طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست بھی دائر کی تھی، جسے عدالت نے خارج کردیا ہے۔
اس پر جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ تاحال ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر نہیں کی گئی۔
عدالت نے نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ حکام سے ہدایات لیں کہ قیصر اقبال کو علاج کے لیے ان کی مرضی کے اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 13 اگست تک ملتوی کردی۔