پشاور میں ٹریفک مسائل روز بروز سنگین صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں پہلے سے موجود رکشہ اور ٹیکسی اسٹینڈز کے بعد اب بائیکیا اسٹینڈز کے باعث بھی کئی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بعض سڑکوں کی گنجائش مزید محدود ہوتی جا رہی ہے۔
شہر کے متعدد مصروف تجارتی اور عوامی مقامات پر بائیکیا رائیڈرز مسافروں کی سہولت کے لیے مخصوص مقامات پر کھڑے ہوتے ہیں، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر ان کی موجودگی سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔
مقامی شہریوں کے مطابق کئی مصروف شاہراہوں اور بازاروں میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں معمول بنتی جا رہی ہیں، جبکہ غیرمنظم پارکنگ اور سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکلیں آمدورفت میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری ٹریفک کو منظم رکھنے کے لیے بائیکیا سمیت تمام رائیڈ ہیلنگ سروسز کے لیے واضح ضابطہ کار اور مخصوص پک اینڈ ڈراپ پوائنٹس مقرر کیے جانے چاہییں۔
شہری حلقوں کا مؤقف ہے کہ بائیکیا رائیڈرز کی رجسٹریشن، روٹ پرمٹ اور آپریشنل ضوابط کے حوالے سے مؤثر نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بعض رائیڈرز زیادہ سواریاں حاصل کرنے یا کم وقت میں منزل تک پہنچنے کی کوشش میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جس سے حادثات کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ٹریفک ماہرین کے مطابق شہری ٹریفک کے بہتر انتظام کے لیے ضروری ہے کہ رائیڈ ہیلنگ سروسز، رکشوں اور ٹیکسیوں کے لیے الگ اسٹینڈز، پارکنگ مقامات اور واضح ٹریفک ضوابط متعارف کرائے جائیں تاکہ سڑکوں پر دباؤ کم ہو اور ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے۔