عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے سینیٹ اجلاس میں موجودہ سیاسی و حکومتی نظام، معاشی پالیسیوں، ایوارڈز کی تقسیم اور نئے صوبوں کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ نظام نے جمہوریت کو مردہ کر کے اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جو وزیر حکومت میں بیٹھ کر نظام کو ناکام قرار دیتا ہے، اسے میدان میں آکر بتانا چاہیے کہ نظام کیوں ناکام ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ صرف عوام پر گولیاں چلانے اور ووٹ لینے کے بجائے قوموں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت میں بیٹھ کر نظام کی ناکامی کی بات کرنے والوں کی اپنی ذمہ داری بھی واضح ہونی چاہیے، جبکہ موجودہ سیاسی طریقہ کار اسی طرح جاری رہا تو ان کی جماعت کو بھی اس کے بائیکاٹ پر غور کرنا پڑے گا۔
اے این پی رہنما نے کہا کہ آئینی عہدے صرف پروٹوکول حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ذمہ داری ادا کرنے اور حکومت میں مثر شراکت داری کے لیے ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر آئینی عہدوں کو صرف پروٹوکول تک محدود رکھا گیا تو عوام ان عہدوں کی ضرورت پر سوال اٹھائیں گے اور جمہوریت پر اعتماد مزید متاثر ہوگا۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بھی موجودہ صورتحال سے بری الذمہ قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات دونوں جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔
ایمل ولی خان نے حکومت کی جانب سے ایوارڈز دینے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ عوام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ایوارڈ دینے کا پیمانہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر داخلہ کو کس کارکردگی پر تمغہ دیا گیا؟
اے این پی رہنما نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے مطالبہ کیا کہ قوم کو بتایا جائے کہ ایوارڈز اور نشانِ امتیاز دینے کا پیمانہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور کشمیر کے حالات سب کے سامنے ہیں، ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایوارڈز کس کارکردگی کی بنیاد پر دیے جا رہے ہیں۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ وہ ایسے وزیر کی قدر کریں گے جو یہ کہے کہ اسے تمغہ نہیں چاہیے، وہ صرف عوام کی خدمت کے لیے آیا ہے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بھی سینیٹ میں کھلی بحث کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانے ہیں یا نہیں اور اگر بنانے ہیں تو کس طریقہ کار کے تحت بنائے جائیں، اس پر پارلیمان میں فیصلہ کن بحث ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کرنے والے اب کہاں ہیں؟ پنجاب سے نئے صوبے کی آواز اٹھتی ہے تو جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں رکاوٹ کیوں ہے؟
ایمل ولی خان نے کہا کہ پختون، بلوچ، سندھی، پنجابی اور سرائیکی سمیت تمام قوموں کو ان کے حقوق دیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ طاقت حاصل کرنے کے بجائے قوموں کو مضبوط بنانے کی سیاست ہونی چاہیے اور پاکستان کو قوموں کو غلام بنا کر نہیں بلکہ انہیں حقوق دے کر ساتھ لے کر مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
اے این پی رہنما نے حکومت پر زور دیا کہ قانون ضرور بنایا جائے لیکن پورے پاکستان کو تجربہ گاہ بنا کر عوام کو مزید مشکلات میں نہ ڈالا جائے۔