محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے مالی سال 2026-27 کے لیے بجٹ اسٹریٹیجی پیپر جاری کر دیا ہے، جس میں صوبے کی معاشی کارکردگی، ترقیاتی ترجیحات، سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری اور آئندہ مالی سال کے اخراجات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
اسٹریٹیجی پیپر کے مطابق صوبے کی مجموعی پیداوار (GPP) 11 ہزار 885 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ فی کس آمدنی 2 لاکھ 90 ہزار روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔ دستاویز میں 157 ارب روپے مالی سرپلس کے ہدف کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو صوبائی معیشت میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
معاشی شعبوں کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے کا معیشت میں حصہ 30 فیصد ہے جبکہ روزگار اور لیبر سیکٹر کی شراکت 32 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ خدماتی شعبے میں 3 فیصد، تعلیم کے شعبے میں 14 فیصد اور محنت و افرادی قوت کے شعبے میں 19 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔
سماجی ترقی کے اشاریوں میں بھی بہتری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق صوبے میں شرح خواندگی 56.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صحت کارڈ پروگرام پر 41 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ اس سہولت سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔
امن و امان کے شعبے کے لیے بھی خاطر خواہ وسائل مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پولیس کے مجموعی اخراجات کے لیے 164 ارب 52 کروڑ روپے جبکہ امن و امان کے لیے مجموعی طور پر 191 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب روپے جبکہ جاری اخراجات کے لیے 1645 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی اور انتظامی ضروریات کے لیے 35 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے باوجود مجموعی بجٹ خسارہ 48 ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
سرکاری ملازمین اور مزدور طبقے کے لیے بھی اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے لیے بھی بڑے فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ پشاور بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب روپے، بی آر ٹی منصوبے کے لیے 7.5 ارب روپے، خوشحال ہزار پروگرام کے لیے 4 ارب روپے، احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب روپے، صحت کارڈ کے لیے 50 ارب روپے اور ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
زراعت، توانائی اور بلدیاتی شعبوں کو بھی بجٹ میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ زراعت کے لیے 29 ارب روپے، توانائی کے منصوبوں کے لیے 42 ارب روپے، بلدیات کے لیے 90 ارب روپے، داخلہ امور کے لیے 29 ارب روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 14 ارب روپے اور زکوٰۃ پروگرام کے لیے 28 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ اسٹریٹیجی پیپر میں صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی بڑے پیمانے پر فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ تاہم 48 ارب روپے کا متوقع خسارہ صوبائی مالیات پر دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر مالی نظم و ضبط کی ضرورت ہوگی۔