رپورٹ عظمت گل
خیبرپختونخوا میں 6 ماہ کے دوران 306 دہشت گرد ہلاک، 347 مطلوب ملزمان گرفتار
خیبرپختونخوا پولیس کی ششماہی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں 306 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ 347 مطلوب ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں 25 اہم کمانڈر بھی شامل ہیں، جن کے سروں کی قیمت کروڑوں روپے مقرر تھی۔ اسی طرح گرفتار کیے جانے والے افراد میں بھی 30 اہم کمانڈر شامل ہیں، جن سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون تک دہشت گردی کے 980 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 3 ہزار 808 ملزمان کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 3 ہزار 161 ملزمان تاحال مفرور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ضلع بنوں رہا، جہاں 172 مقدمات درج ہوئے۔ بنوں میں کارروائیوں کے دوران 44 دہشت گرد ہلاک، 17 گرفتار جبکہ 957 ملزمان مفرور قرار دیے گئے۔
شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے 143 مقدمات درج ہوئے، جہاں 86 دہشت گرد ہلاک اور 2 گرفتار کیے گئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں 128 مقدمات کے دوران 96 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
پشاور میں دہشت گردی کے 106 مقدمات درج ہوئے، 61 ملزمان گرفتار جبکہ 380 افراد مفرور ہیں۔ باجوڑ میں 93 مقدمات درج کیے گئے، جہاں 25 ملزمان گرفتار اور 70 مفرور قرار دیے گئے۔ کوہاٹ میں 69 مقدمات کے دوران 45 ملزمان گرفتار جبکہ 218 افراد مفرور ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے سدباب کے لیے کارروائیوں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں خیبرپختونخوا پولیس کو جدید آلات اور سہولیات سے لیس کیا گیا ہے تاکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا سکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے 341 ڈرون حملوں کو بھی ناکام بنایا گیا