) خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو عوام دوست، ترقیاتی اور فلاحی قرار دیتے ہوئے مختلف شعبوں کے لیے بڑے مالی پیکیجز کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے عوامی ضروریات، سماجی بہبود اور ترقیاتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن بجٹ پیش کیا ہے۔
وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پیش کیا گیا بجٹ صوبے کی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کا بجٹ وفاق اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ عوام دوست اور ترقی پر مبنی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صحت، تعلیم اور پولیس سمیت اہم شعبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات، معیاری تعلیم اور امن و امان کی مؤثر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
پریس کانفرنس میں صحافی برادری کے لیے خصوصی مالی اور فلاحی پیکیج کا بھی اعلان کیا گیا۔ شفیع جان کے مطابق صحافیوں کی فلاح و بہبود، ان کے بچوں کے وظائف اور انٹرن شپ پروگراموں کے لیے 700 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ میڈیا کالونیز کی فزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ پشاور پریس کلب کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے 150 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔ انفارمیشن سیکٹر میں جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جرنلسٹس اینڈومنٹ فنڈ کو 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے ساتھ مالی معاملات پر بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو الشفا ہسپتال منتقل کرنے اور بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملنے تک وفاق کو گرانٹ نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات اور مشاورت ایک بنیادی سیاسی حق ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی اہم فیصلوں سے قبل اپنے قائدین سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔
ضم شدہ اضلاع کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ ان علاقوں کی ترقی، بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے فوری طور پر 300 ارب روپے درکار ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع کے لیے درکار وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر پنجاب حکومت کے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہاں بعض ترقیاتی منصوبوں کو مخصوص خاندانوں سے منسوب کیا گیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے بجٹ میں کسی قسم کی سیاسی برانڈنگ یا شخصیات کے ناموں کو ترجیح نہیں دی۔
سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے حق میں نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم 45 کے مطابق پی ٹی آئی کی کامیابی واضح ہے اور عوامی حمایت بدستور جماعت کے ساتھ موجود ہے۔
مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بھی بجٹ کو صوبے کی معاشی ضروریات کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کو ترجیح دی ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر صوبائی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بجٹ میں شامل منصوبوں اور اعلانات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے میں ترقی اور خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔