نوشہرہ: قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کی کوشش، تین سیکیورٹی گارڈز کے خلاف مقدمہ درج
نوشہرہ: قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج مریض کی اہلیہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کی کوشش کے واقعے کے بعد پولیس نے تین سیکیورٹی گارڈز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، جبکہ وزیر صحت خیبر پختونخوا نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
پولیس کے مطابق تھانہ کلاں نوشہرہ میں درج ایف آئی آر میں داؤد زئی (اسماعیل خیل) کی رہائشی 25 سالہ خاتون نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی تیمارداری کے لیے اسپتال میں موجود تھی۔ خاتون کے مطابق 8 جون کی رات تقریباً 9 بجے وہ اپنے شوہر کے لیے کھانا لینے وارڈ سے باہر گئی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق واپسی پر راستہ معلوم کرنے کے لیے خاتون نے ایک سیکیورٹی گارڈ سے مدد طلب کی، جس نے مبینہ طور پر اسے سیکیورٹی روم میں لے جا کر دروازہ بند کر دیا اور اس کے ساتھ زبردستی کرتے ہوئے زیادتی کی کوشش کی۔
خاتون کا کہنا ہے کہ بعد ازاں دو مزید سیکیورٹی گارڈز بھی کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے بھی مبینہ طور پر اس کے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔ خاتون کے مطابق اس نے مزاحمت کرتے ہوئے شور مچایا جس پر ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد اسپتال عملے اور دیگر افراد کی موجودگی میں ملزمان کی شناخت عمیر، ندیم خان اور عباس کے ناموں سے ہوئی، جن کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا وزیر صحت خیبر پختونخوا میاں خلیق الرحمان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ الزامات کی حتمی تصدیق تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ :::