خیبرپختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے لیے 19 جون کی تاریخ متوقع قرار دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یکم محرم الحرام کے باعث 17 جون کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا، جس کے بعد بجٹ اجلاس کے شیڈول پر دوبارہ مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق Khyber Pakhtunkhwa Assembly کا بجٹ اجلاس 19 جون کو طلب کیے جانے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے اسپیکر Babar Saleem Swati نے اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ بجٹ سیشن کے معاملات پر انہیں اعتماد میں لیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز سے ملاقات بھی کی، جس میں بجٹ اجلاس کے طریقہ کار، اسمبلی کی کارروائی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔ حکومت کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ بجٹ اجلاس خوش اسلوبی سے مکمل ہو اور اپوزیشن کو بھی پارلیمانی عمل میں شامل رکھا جائے۔
ذرائع کے مطابق اگر بجٹ 19 جون کو پیش کیا جاتا ہے تو اگلے روز 20 جون کو بجٹ پر وقفہ دیا جائے گا، جبکہ 21 جون سے بجٹ دستاویزات پر عام بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔ حکومتی منصوبے کے مطابق بجٹ کو 24 جون تک منظور کروانے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب بجٹ پیش کرنے کے معاملے میں عدالتی صورتحال بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق Islamabad High Court میں زیر سماعت مقدمے کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ سے متعلق حتمی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی ممکنہ عبوری بجٹ کی مخالفت کر چکی ہیں اور مطالبہ کر رہی ہیں کہ حکومت آئین کے مطابق مکمل سالانہ بجٹ اسمبلی میں پیش کرے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ مالی سال 2026-27 کا مکمل بجٹ بروقت پیش ہونا چاہیے تاکہ صوبے کے مالی معاملات معمول کے مطابق چل سکیں۔
بجٹ اجلاس کے دوران ترقیاتی پروگرام، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و مراعات، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں کے لیے مختص فنڈز اہم موضوعات رہنے کا امکان ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بجٹ منظوری کے مرحلے میں سیاسی کشیدگی بھی ایک اہم عنصر ہو سکتی ہے۔