پشاور(نمائندہ خصوصی) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی کال پر پشاور سمیت صوبہ بھر میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ احتجاج میں جے یو آئی کارکنان، علما کرام، تاجروں، طلبہ اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور شہید عالم دین سے اظہارِ عقیدت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مولانا محمد ادریس کے قاتلوں کی گرفتاری اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوام کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد ادریس ایک جید عالم دین، بہترین مدرس اور امن و اخوت کے داعی تھے، جن کی شہادت نہ صرف دینی حلقوں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت امن قائم کرنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے، جس کے باعث علما، تاجروں اور عام شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
احتجاجی مظاہروں میں شریک رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مولانا محمد ادریس کے قتل میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملزمان کو جلد گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صوبے میں قیامِ امن اور علما کرام کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ احتجاج کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جبکہ مختلف علاقوں میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی۔