پاک افغان سرحدی بندش کے باعث افغانستان کی برآمدی تجارت شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے، خصوصاً خشک میوہ جات کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی اور افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق سرحدی راستے بند ہونے سے برآمدات تقریباً رک گئی ہیں، جس کے نتیجے میں افغان تاجروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ ہزاروں ٹن خشک میوہ جات گوداموں میں پڑے ہیں اور بروقت ترسیل نہ ہونے کے باعث خراب ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ سرحدی بندش کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہو چکی ہے، بین الاقوامی آرڈرز وقت پر پورے نہیں ہو پا رہے اور تجارتی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بارڈر پر سامان سے بھرے متعدد ٹرک پھنسے ہوئے ہیں جبکہ ڈرائیوروں کو تاخیر اور اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔ افغان تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرحدی راستے جلد نہ کھولے گئے تو کئی کاروبار دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سرحدی کشیدگی نے افغانستان کی برآمدی معیشت پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے اور علاقائی تجارتی نظام میں خلل پیدا ہوا ہے۔ خاص طور پر قندھار سمیت مختلف علاقوں میں ذخیرہ شدہ خشک میوہ جات کے خراب ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے، جس سے سپلائی چین کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے صورتحال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔