لکی مروت کے شہباز خیل اڈہ کے قریب گزشتہ رات ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا، جب تھانہ شہباز خیل کی پولیس موبائل گاڑی پر موٹر سائیکل میں نصب آئی ڈی بلاسٹ کیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ایک اے ایس آئی، چار پولیس اہلکار اور ایک سویلین راہ گیر زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق دھماکے کا مقصد موبائل گاڑی کو نقصان پہنچانا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، تاہم حفاظتی اقدامات اور گارڈز کی فوری کارروائی کے سبب بڑے نقصان سے بچا جا سکا۔زخمیوں میں شامل ہیں:ایس آئی جمال الدینڈرائیور میر حسنایک دیگر پولیس اہلکارایک سویلین راہ گیرزخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال لکی مروت منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے اور حکام نے زخمیوں کی حالت کو مستحکم قرار دیا ہے۔پولیس نے جائے وقوعہ پر بھاری نفری روانہ کر دی، علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اور ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے محرکات، منصوبہ بندی کرنے والے عناصر اور موٹر سائیکل بم کے ذریعہ استعمال شدہ مواد کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے، اور جلد ہی ذمہ داروں کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا۔پولیس کے ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کا عندیہ ہے اور ایسے حملے عوامی تحفظ کے لیے خطرہ ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں اضافی حفاظتی اقدامات اور موبائل چیک پوسٹس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے فوری ردعمل ممکن ہو۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں اور اپنے علاقوں میں حفاظتی اقدامات میں تعاون کریں۔