خیبرپختونخوا میں جعلی اسناد کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے متعلق کیس کی سماعت آج 17 اپریل کو ہونے جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی محکمہ صحت نے جعلی پی ایم ڈی سی اسناد اور غیر معمولی بنیادوں پر تعینات میڈیکل آفیسرز کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت 30 سے زائد ڈاکٹرز کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی شروع کی گئی ہے۔ ان تمام متعلقہ ڈاکٹرز کو ذاتی سماعت کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔
سماعت آج صبح 11 بجے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری ریسورس کے دفتر میں ہوگی، جہاں تمام نامزد ڈاکٹرز اور متعلقہ افسران کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ صحت نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا کو باقاعدہ مراسلہ بھی ارسال کیا ہے تاکہ تمام ڈاکٹرز کو بروقت آگاہ کیا جا سکے اور ایک باخبر افسر کو ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کے لیے مقرر کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کی زد میں آنے والے ڈاکٹرز کا تعلق مختلف اضلاع سے ہے، جن میں پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی، دیر اپر، دیر لوئر، ملاکنڈ، شانگلہ، کوہاٹ اور ہنگو شامل ہیں۔ کئی ڈاکٹرز مختلف ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کے ساتھ منسلک بھی پائے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق یہ کارروائی ان میڈیکل آفیسرز کے خلاف کی جا رہی ہے جن کی تقرری ایکسٹراآرڈنری بنیادوں پر کی گئی اور جن پر جعلی یا مشکوک پی ایم ڈی سی اسناد کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو نہ صرف ملازمت سے برطرفی بلکہ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
یہ معاملہ محکمہ صحت میں بھرتیوں اور نگرانی کے نظام میں موجود سنگین خامیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ڈاکٹرز پاکستان تحریک انصاف کے پہلے دور حکومت میں بھرتی ہوئے تھے، جن میں سے اکثر کا تعلق ملاکنڈ ڈویژن سے ہے اور یہ بیرون ملک سے حاصل کردہ ڈگریوں کے حامل ہیں۔