پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) 2026-27 کے نئے منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں بورڈ آف ریونیو، اوقاف، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مجوزہ ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئندہ ترقیاتی پروگرام میں ٹرائیبل میڈیکل کالج، نرسنگ کالجز اور مختلف پرائمری و سیکنڈری ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں ہیلتھ سٹی کے قیام، میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز (ایم ٹی آئی) میں نئے بلاکس، بریسٹ کینسر اسکریننگ سینٹرز، جدید میڈیکل کمپلیکسز اور 1000 بیڈز پر مشتمل جنرل ہسپتال کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں صوبے بھر میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے قیام پر اتفاق بھی کیا گیا۔
تعلیم کے شعبے میں سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، نئے سکولوں کے قیام اور موجودہ اداروں کی اپ گریڈیشن، بالخصوص ضم اضلاع میں طلبہ کے لیے سکالرشپس اور اساتذہ کے لیے ہاسٹلز کی تعمیر کی تجاویز پیش کی گئیں۔ مزید برآں سرکاری سکولوں میں غیر فعال آئی ٹی لیبز کی بحالی، نئی سائنس لیبز کے قیام اور کمپیوٹر سائنس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو نصاب کا حصہ بنانے پر بھی غور ہوا۔
اجلاس میں لینڈ ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لیے خستہ حال محافظ خانوں کی بحالی، ضم اضلاع میں اقلیتی برادری کی مالی خودمختاری کے لیے خصوصی اسکیم، اور صوبے کے مختلف سکولوں میں 20 ہزار اضافی کلاس رومز کی تعمیر کو بھی اے ڈی پی میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اس کے علاوہ مدارس کے طلبہ کے لیے مفت کتابوں کی فراہمی، ای اسلامک اکیڈمی کے قیام، علما کی مشاورت سے جدید سائنسز متعارف کرانے، عید گاہوں اور جنازگاہوں کی تعمیر اور ضم اضلاع میں مساجد و مدارس کی انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ بھی زیر غور آئی۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کے ترجیحی شعبے ہیں اور ان میں خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کا بنیادی مشن ہے۔