لیبیا میں پیش آنے والے المناک کشتی حادثے میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے کم از کم 3 نوجوان جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں درجنوں پاکستانی سوار تھے، جن میں بڑی تعداد باجوڑ اور دیگر قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ یہ افراد بہتر روزگار اور روشن مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی راستوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق کشتی سمندر میں خراب موسم اور گنجائش سے زیادہ مسافروں کے باعث ڈوب گئی۔ ریسکیو حکام نے متعدد افراد کو بچا لیا ہے، تاہم 70 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے، جن میں کئی پاکستانی بھی شامل ہیں۔
متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا ہے، جبکہ باجوڑ اور گردونواح میں فضا سوگوار ہے۔ مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے اور پاکستانی سفارتی حکام لیبیا میں موجود متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔ مزید تفصیلات اور جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں غیر قانونی ہجرت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایسے خطرناک واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔