سوات:مدین روڈ پر 9 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے کے خلاف خواتین سمیت شہری احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے انصاف کی فراہمی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔
مظاہرین کے مطابق واقعے کو پانچ روز گزر چکے ہیں، تاہم متاثرہ بچی اور اس کے خاندان کو تاحال انصاف کا انتظار ہے۔ احتجاج کے باعث خواتین نے مدین روڈ کو آمدورفت کے لیے بند کردیا۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث مبینہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، کیس کی عدالتی کارروائی جلد شروع کی جائے اور متاثرہ بچی کو قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔
احتجاج میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات معاشرے کے لیے تشویش ناک ہیں اور ایسے مقدمات میں متاثرہ خاندانوں کو فوری قانونی اور عدالتی معاونت ملنی چاہیے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واقعے کے حوالے سے پولیس یا متعلقہ حکام کا تفصیلی موقف سامنے آنے پر کیس کی مزید صورت حال واضح ہوسکے گی۔