خیبرپختونخوا میں گزشتہ سات سال کے دوران جاری اخراجات میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے، جبکہ اسی عرصے میں ترقیاتی بجٹ میں اضافہ اس کے مقابلے میں انتہائی محدود رہا۔
محکمہ خزانہ کی دستیاب دستاویزات کے مطابق مالی سال 2020-21 میں خیبرپختونخوا کے جاری اخراجات کا بجٹ 537 ارب 73 کروڑ 70 لاکھ روپے تھا، جو مسلسل اضافے کے بعد رواں مالی سال 2026-27 میں بڑھ کر ایک ہزار 645 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق مالی سال 2021-22 میں جاری اخراجات میں 22 ارب 20 کروڑ 50 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا اور بجٹ 559 ارب 94 کروڑ 20 لاکھ روپے تک پہنچا۔ مالی سال 2022-23 میں مزید 80 ارب 89 کروڑ 30 لاکھ روپے اضافے کے بعد جاری اخراجات 640 ارب 83 کروڑ 50 لاکھ روپے ہوگئے۔
مالی سال 2023-24 میں جاری اخراجات میں ایک ہی سال کے دوران 215 ارب 16 کروڑ 10 لاکھ روپے کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ بجٹ 855 ارب 99 کروڑ 60 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔ مالی سال 2024-25 میں مزید 266 ارب 16 کروڑ 20 لاکھ روپے اضافے کے بعد جاری اخراجات کا حجم ایک ہزار 122 ارب 15 کروڑ 80 لاکھ روپے ہوگیا۔
ارب 39 کروڑ 60 لاکھ روپے تھا، جو پانچ سال بعد 2024-25 میں صرف 31 ارب 81 کروڑ روپے اضافے کے ساتھ 196 ارب 20 کروڑ 60 لاکھ روپے تک پہنچا۔ تاہم مالی سال 2025-26 میں ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 608 ارب روپے ظاہر کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران بندوبستی اضلاع کے جاری اخراجات کے بجٹ میں 584 ارب 42 کروڑ 10 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ ترقیاتی بجٹ میں صرف 30 ارب 15 کروڑ 10 لاکھ روپے اضافہ کیا گیا۔ اسی طرح قبائلی اضلاع کے جاری اخراجات میں 47 ارب 94 کروڑ 60 لاکھ روپے اضافہ ہوا، جبکہ ترقیاتی بجٹ میں اضافہ صرف ایک ارب 65 کروڑ 90 لاکھ روپے رہا۔
دوسری جانب ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کی مد میں بھی وفاق سے خیبرپختونخوا کو مقررہ رقم سے کم فنڈز موصول ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی مد میں صوبے کو 3 ہزار 256 ارب 34 کروڑ 60 لاکھ روپے ملنے تھے، تاہم 114 ارب 89 کروڑ 60 لاکھ روپے کی کمی کے ساتھ 3 ہزار 114 ارب 45 کروڑ روپے موصول ہوئے۔
اسی طرح شدت پسندی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبرپختونخوا کو 391 ارب 30 کروڑ 30 لاکھ روپے ملنے تھے، تاہم 17 ارب 7 کروڑ 90 لاکھ روپے کی کمی کے بعد صوبے کو 374 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے موصول ہوئے۔
دونوں مدات میں مجموعی طور پر وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو 158 ارب 97 کروڑ روپے کم موصول ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک جانب صوبے کے جاری اخراجات، خصوصا تنخواہوں اور مراعات کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ترقیاتی بجٹ میں اضافے کی رفتار اس کے مقابلے میں کہیں کم رہی ہے، جس سے صوبائی مالیاتی ترجیحات اور اخراجات کے بڑھتے ہوئے حجم پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔