پشاور(نیوزرپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر درخواست گزار کے وکلاء کو مزید دستاویزات عدالت میں جمع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگلی پیشی پر اس کیس کو سن کر اس پر فیصلہ کیا جائے گا ۔رٹ کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے عالم خان ادینزئی اور بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ جبکہ الیکشن کمیشن کے افسران عدالت میں پیش ہوئے۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وزیر اعلی کے وکلاء نے عدالت کوبتایا کہ اسکا موکل صوبے وزیراعلی ہے جس کو الیکشن کمیشن نے ہری پور میں ضمنی انتخابات کے دوران جلسہ کرنے کے دوران سرکاری افسروں کو دھمکیاں دینے پر نوٹس جاری کیا تھا حالانکہ جس جگہ جلسہ ہو رہا تھا وہ ضمنی الیکشن کے حلقے سے باہر تھا تا ہم الیکشن کمیشن نے وزیراعلی کو نوٹس جاری کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم اس کیس میں کچھ کاغذات جمع کرنا چاہتے ہیں، جس دن وزیراعلی نے جلسہ کیا اسی دن پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے بھی جلسہ کیا مگرالیکشن کمیشن نے وزیراعلی خیبرپختون خوا کو نوٹس دیا اور کارروائی شروع کی مریم نواز نے بھی جلسہ کیا ہم نے مریم نواز کے خلاف کارروائی کے لئے الیکشن کمیشن کو درخواست دی ۔انہوں نے بتایاکہ کہ الیکشن کمیشن نے مریم نواز کے خلاف ہماری درخواست خارج کردی جس پر جسٹس سید ارشدعلی نے کہا کہ وہ پنجاب کا معاملہ ہے وہ ہمارے دائر اختیار میں نہیں ہے۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ ہم الیکشن کمیشن کا طرز عمل عدالت کو بتانا چاہتے ہیں جلسہ کرنے پر الیکشن کمیشن نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے خلاف کارروائی شروع کی اور پنجاب کی وزیراعلی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی ۔انہوں نے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن ہمیں درخواست پر فیصلے کی کاپی بھی فراہم نہیں کررہی ۔الیکشن کمیشن ہمیں کاپی فراہم کریں، ہم اس کو فائل پر لانا چاہتے ہیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزار وکلاء کو کاپی فراہم کریں فاضل بنچ نے وکلاء کو مزید ڈاکومنٹس جمع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر کیس پر فیصلہ کریں گے