• اشتہار کے لیے رابطہ
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کیجئے
  • اخبار
  • 0912584506
  • 93008563368+
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سیاست
  • بین الاقوامی
  • علاقائی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
  • آئین اخبار
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سیاست
  • بین الاقوامی
  • علاقائی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
  • آئین اخبار
پاکستان

بااختیار ادارہ یا محض ڈاکخانہ؟

admin
Share
SHARE

لطیف الرحمان
ادارے اپنے نام، عمارتوں، گاڑیوں، دفاتر اور افسران کی تعداد سے بڑے نہیں ہوتے، بلکہ ان کی اصل عظمت اس اختیار، ذمہ داری، اہلیت اور جواب دہی سے پہچانی جاتی ہے جو ریاست اور عوام نے ان کے سپرد کی ہو۔ کوئی ادارہ اگر اپنے قانونی اور بنیادی اختیارات کو خود استعمال کرنے کے بجائے رفتہ رفتہ دوسرے اداروں کے حوالے کرتا چلا جائے، پھر اپنی موجودگی کو محض رقوم کی وصولی، ان کی منتقلی اور امدادی سامان کی خریداری تک محدود کر دے تو ایک فطری سوال جنم لیتا ہے کہ ایسے ادارے کو بااختیار ادارہ کہا جائے یا محض ایک ڈاکخانہ، جہاں ایک جانب سے رقم آتی ہے اور دوسری جانب روانہ کر دی جاتی ہے۔

 

صوبائی ادار انتظامِ آفات،(پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی)، خیبرپختونخوا کا قیام ایک بڑے اور انتہائی اہم مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا۔

خیبرپختونخوا ایک ایسا صوبہ ہے جہاں سیلاب، زلزلے، طوفانی بارشیں، برف باری، پہاڑی تودے گرنے، ندی نالوں میں طغیانی اور دیگر قدرتی آفات بارہا انسانی جانوں، گھروں، سڑکوں، پلوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچاتی رہی ہیں۔ ایسے صوبے میں ایک مضبوط صوبائی ادارے کی ضرورت صرف اس لیے نہیں کہ آفت کے بعد متاثرین کو معاوضہ دیا جائے بلکہ اصل ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی ہو، نقصان کے امکانات کم کیے جائیں، حساس علاقوں کا مسلسل جائزہ لیا جائے، مقامی آبادی کو بروقت خبردار کیا جائے اور ایسا انتظام قائم ہو کہ آفت آنے کے بعد صرف لاشیں گننے، نقصانات لکھنے اور معاوضے بانٹنے کی نوبت کم سے کم آئے۔بدقسمتی سے برسوں کے دوران یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا نمایاں کردار محکمہ خزانہ سے امدادی رقوم وصول کرنا، انہیں اضلاع تک پہنچانا، متاثرین کے لیے امدادی اشیا خریدنا و ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنا اور آفات کے بعد ضلعی اتنظامیہ ہی کے تحت معاوضوں کے عمل میں مالی وسائل مہیا کرنا بن کر رہ گیا ہے۔

اگر ایک صوبائی سطح کا بڑا ادارہ، جس پر عوام کے ٹیکسوں سے خطیر رقم خرچ ہوتی ہو، محض رقم وصول کرکے اضلاع کو منتقل کرنے تک محدود ہو جائے تو یقینا یہ سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ اس ادارے کے قیام کا اصل مقصد کہاں گیا اور اس کی وہ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں کہاں ہیں جن کے ذریعے قدرتی آفات کے نقصانات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے کم کیا جانا تھا۔قدرتی آفات کا انتظام صرف اس وقت شروع نہیں ہونا چاہیے جب کسی کا گھر گر چکا ہو، کسی خاندان کا کفیل جان سے جا چکا ہو، کوئی شخص زخمی ہو چکا ہو یا کسی بستی میں سیلاب تباہی مچا چکا ہو۔ اصل اور موثر انتظام تو وہ ہے جو خطرے کو پہلے پہچانے۔ اگر کسی پرانی عمارت کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ شدید زلزلے میں منہدم ہوسکتی ہے تو اس کے گرنے کے بعد معاوضہ دینا ریاست کی آخری ذمہ داری ہے، پہلی نہیں۔ پہلی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ مالک کو پہلے خبردار کیا جائے، متعلقہ انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے، عمارت کی حالت کا اندراج کیا جائے اور ممکنہ انسانی نقصان سے بچنے کے لیے قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں۔صوبے کے مختلف اضلاع کے بارے میں قدرتی آفات اور ممکنہ خطرات سے متعلق تفصیلی رپورٹس پہلے بھی مرتب کی جاتی رہی ہیں۔ غیر سرکاری اداروں کے تعاون سے مختلف علاقوں میں ایسی عمارتوں، پلوں، سڑکوں، آبادیوں اور مقامات کی نشاندہی کی گئی جو زلزلے، سیلاب یا دیگر آفات کی صورت میں زیادہ خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ پشاور کے اندرون شہر میں ایسی متعدد قدیم عمارتیں موجود ہیں جنہیں تعمیر ہوئے ایک صدی یا اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اگر ایسی عمارتوں کے متعلق سرکاری یا تحقیقی جائزے خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں تو صرف رپورٹ تیار کرکے الماری میں رکھ دینا کسی صورت کافی نہیں۔ متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے ذریعے ان علاقوں میں واضح انتباہی تختیاں نصب کی جاسکتی ہیں، عمارتوں کے مالکان کو تحریری طور پر خطرے سے آگاہ کیا جاسکتا ہے اور ہر انتباہ کا مستقل سرکاری اندراج رکھا جاسکتا ہے تاکہ بعد ازاں یہ معلوم ہو کہ ریاست نے خطرے سے پہلے اپنا فرض ادا کیا تھا یا نہیں۔

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ایک اور بنیادی ذمہ داری معاوضوں کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ طویل عرصے تک یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا کہ کیا ایسا مربوط صوبائی معلوماتی نظام موجود ہے جس میں کسی شخص کا قومی شناختی نمبر درج کرنے سے فوری طور پر معلوم ہوسکے کہ اس شخص یا اس کے خاندان نے کسی سابقہ قدرتی آفت کے نتیجے میں کب، کہاں، کس نوعیت کے نقصان پر اور کتنی امدادی رقم وصول کی تھی۔ اگر کسی خاندان میں کسی شخص کی فوتگی پر پہلے معاوضہ ادا ہوچکا ہے تو اس واقعے کا مکمل ریکارڈ موجود ہونا چاہیے۔ اگر کسی مکان کو جزوی یا مکمل نقصان کے نام پر پہلے معاوضہ دیا گیا تو اسی مکان کے بارے میں مستقبل کے کسی دعوے کے وقت سابقہ تفصیل فورا سامنے آنی چاہیے۔ ایسا نظام نہ صرف غلط یا دہرا معاوضہ روک سکتا ہے بلکہ سرکاری خزانے کے تحفظ، متاثرین کے حق اور افسران کی جواب دہی کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ صوبائی حکومت نے عوام کو مختلف سرکاری سہولیات ایک منظم اور جدید طریقے سے فراہم کرنے کے لیے دستک کے نام سے ایک ڈیجیٹل نظام قائم کیا ہے، جسے صوبے کے عوام مختلف خدمات کے حصول کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسی نظام کے ذریعے قدرتی آفات سے متاثرہ مستحق افراد کو معاوضے کی رقم براہِ راست، شفاف اور قابلِ جانچ انداز میں فراہم کرنے کا بندوبست پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے ایک اہم اصلاحی قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر معاوضوں کی منظوری، متاثرہ فرد کی شناخت، سابقہ ادائیگیوں کی جانچ، نقصان کی نوعیت اور رقم کی ترسیل کو دستک کے مرکزی نظام سے مربوط کردیا جائے تو ایک طرف متاثرین کو دفتروں کے چکر کم لگانے پڑیں گے اور دوسری جانب ہر ادائیگی کا مستقل اور قابلِ جانچ سرکاری ریکارڈ بھی محفوظ ہوسکے گا۔ یوں سرکاری امداد واقعی اس مستحق شخص تک پہنچنے کے امکانات بڑھ جائیں گے جس نے حقیقی نقصان برداشت کیا ہو۔تاہم صرف برقی نظام قائم کردینا ہی کافی نہیں۔ اگر غلط معلومات کسی نظام میں داخل کی جائیں تو وہ خود بخود درست نہیں ہوجاتیں۔ اصل ذمہ داری درست تصدیق کی ہے۔ ہر بڑے یا حساس معاوضے کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے، مشتبہ معاملات کی دوبارہ پڑتال کی جائے، اضلاع سے آنے والی فہرستوں میں سے ایک مناسب تعداد کا زمینی معائنہ کیا جائے اور یہ ریکارڈ محفوظ رکھا جائے کہ کس اہلکار نے نقصان کی تصدیق کی، کس افسر نے منظوری دی اور رقم کس تاریخ کو کس مستحق فرد تک پہنچی۔ اس طرح کسی ایک سطح پر غلطی یا ملی بھگت کے امکانات کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے

۔سن 2016 میں پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیدہ اختیارات ضلعی انتظامیہ کو منتقل کیے جانے کے انتظامی فیصلے کا بھی نئے سرے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ضلعی انتظامیہ قدرتی آفات کے موقع پر ہمیشہ صفِ اول میں رہتی ہے اور اس کا کردار ناگزیر ہے، مگر کسی ضلع کو عملی کام سونپنے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صوبائی ادارہ اپنی نگرانی، جانچ اور جواب دہی کی ذمہ داری سے بھی مکمل الگ تلگ ہوجائے۔ اختیار کی تقسیم انتظامی سہولت ہوسکتی ہے، مگر جواب دہی کی تقسیم اس حد تک نہیں ہونی چاہیے کہ آخر میں کسی غلطی کا ذمہ دار ہی معلوم نہ ہوسکے۔ اس ضمن میں پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت ہر ضلع میں ضلعی دفتر بنانا وقت کا اہم تقاضہ ہے اور ضلعی انتظامیہ کو سپرد کیے گئے تمام اختیارار واپس لیکر نچلی سطح پر اپنے ضلعی دفتر تک منتقل کرنے ہونگے تب جا کر ادارے کی اصل روح بحال ہوسکتی ہے۔اگر ضلع خود نقصان کا تخمینہ لگائے، وہی مستحقین کی فہرست بنائے، وہی تصدیق کرے اور اسی کی رپورٹ پر تمام رقم جاری ہوجائے تو پھر صوبائی سطح پر آزادانہ جانچ کا مقصد باقی رہنا چاہیے۔ صوبائی ادارے کو اضلاع کے کام کا نگران، رہنما اور جانچ کرنے والا ادارہ بننا ہوگا۔ اس کا فرض یہ نہیں کہ ہر کام خود کرے، بلکہ یہ یقینی بنائے کہ ہر ضلع میں کام ایک ہی واضح اصول، ایک ہی معیار اور مکمل دیانت داری کے ساتھ ہورہا ہے۔قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے نقصانات کا ایک بڑا حصہ انسانی غفلت اور غیر منظم تعمیرات سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ دریا، برساتی نالے اور پانی کی قدرتی گزرگاہیں صدیوں سے اپنا راستہ رکھتی ہیں۔ اگر انسان ان راستوں پر تعمیرات کھڑی کردے اور پھر پانی اپنی قدرتی گزرگاہ واپس لے تو اس نقصان کو صرف قدرتی آفت کہہ دینا مسئلے کا مکمل بیان نہیں۔

سن 2010 کے تباہ کن سیلاب کے بعد قائم ہونے والے تحقیقاتی عمل اور عدالتی ہدایات نے بھی اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ آبی گزرگاہوں، دریائی حدود اور خطرناک مقامات پر تجاوزات کو نظرانداز کرنا مستقبل میں مزید جانی و مالی نقصان کو دعوت دے سکتا ہے۔اس لیے ایسے علاقوں میں جہاں پہلے سے خطرات کی واضح نشاندہی ہو، صوبائی ادار انتظامِ آفات کو ضلعی انتظامیہ، آبپاشی، بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر باقاعدہ پیشگی آگاہی کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ وہ جس مقام پر رہائش پذیر ہیں وہاں کس نوعیت کا خطرہ موجود ہے۔ ہر نوٹس کا اندراج فرد کے قومی شناختی نمبر اور جائیداد کی مکمل تفصیل کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس عمل کا مقصد کسی مصیبت زدہ فرد کو اس کے قانونی حق سے محروم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو تباہی سے پہلے محفوظ راستہ دینا اور ریاست کے احتیاطی کردار کو مضبوط بنانا ہے۔یہاں ایک اور بنیادی سوال ادارے کے انسانی وسائل کا بھی ہے۔ اگر صوبائی ادارے میں بڑی تعداد میں افسران، فنی ماہرین اور معلوماتی نظام سے وابستہ اہلکار موجود ہیں تو ان کی کارکردگی صرف حاضری سے نہیں بلکہ نتائج سے ناپی جانی چاہیے۔ معلوماتی نظام سے وابستہ اہلکاروں کی کامیابی یہ ہونی چاہیے کہ صوبے کا مکمل معاوضاتی ریکارڈ چند لمحوں میں سامنے آجائے، کسی بھی شخص کے سابقہ دعووں کی پوری تاریخ دستیاب ہو، دہرے دعووں کی بروقت نشاندہی ہوسکے اور مشتبہ ادائیگی کو رقم جاری ہونے سے پہلے روکا جاسکے۔ آفات سے متعلق فنی ماہرین کی کارکردگی یہ ہونی چاہیے کہ زیادہ خطرے والے علاقوں کی تازہ فہرست موجود ہو، پیشگی خطرات متعلقہ اداروں تک پہنچائے گئے ہوں اور ضلعی سطح پر مستقل نگرانی ہورہی ہو۔صوبائی ادارے میں کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کو صرف مرکزی دفتر تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی مہارت اور مستقل سکونت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اضلاع میں ذمہ داریاں دی جاسکتی ہیں تاکہ ضلعی سطح پر آفات سے نمٹنے کے یونٹ حقیقی معنوں میں فعال ہوسکیں۔ جو اہلکار اپنے علاقے کی جغرافیائی ساخت، دریا، نالوں، پہاڑی علاقوں، آبادیوں اور موسمی حالات سے واقف ہو وہ مقامی سطح پر زیادہ مثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہر ضلع میں مستقل، تربیت یافتہ اور واضح ذمہ داری رکھنے والا عملہ ہونا چاہیے جو آفت کے دن پہلی مرتبہ نقشہ نہ کھولے بلکہ پہلے ہی اپنے ضلع کے خطرات سے مکمل واقف ہو۔اسی طرح قدرتی آفات کے دوران ادارے کی عوامی شناخت بھی اہم ہے۔ جس طرح ہنگامی خدمات، جنگلات اور جنگلی حیات کے محکموں کے اہلکار اپنے مخصوص سرکاری یونیفارم سے فوری طور پر پہچانے جاتے ہیں،

 

اسی طرح پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی سطح پر اس کے ذمہ دار اہلکاروں کے لیے بھی مناسب، واضح اور باوقار مخصوص سرکاری لباس متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ آفت زدہ علاقے میں ایک پریشان حال شہری کو فوری طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے سامنے موجود شخص کس ادارے کی نمائندگی کررہا ہے اور اس سے کس نوعیت کی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ ادارے کی زمینی موجودگی عوام کے اعتماد کو بڑھاتی ہے اور صوبائی حکومت کے مجموعی نظم و نسق کا مثبت احساس بھی پیدا کرتی ہے۔اصل مسئلہ کسی ادارے کو ختم کرنے کا نہیں بلکہ اسے اس کے بنیادی مقصد کی طرف واپس لانے کا ہے۔ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، مگر اس ضرورت کا جواز صرف اس وقت ثابت ہوگا جب اس کی موجودگی آفت کے بعد امدادی رقوم کی تقسیم سے آگے نظر آئے۔ اسے تحقیق، پیشگی اطلاع، خطرات کی نشاندہی، ضلعی اداروں کی رہنمائی، حسابی جانچ، متاثرین کی درست شناخت، پیشگی تیاری اور نقصانات میں حقیقی کمی کے میدان میں اپنا مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔اگر ایک صوبائی ادارہ صرف محکمہ خزانہ سے رقم وصول کرکے اضلاع کو بھیجتا رہے تو یہ کام براہِ راست اضلاع کو رقوم جاری کرکے بھی کیا جاسکتا ہے۔ پھر سینکڑوں ملازمین، افسران اور بڑے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ مگر اگر یہی ادارہ صوبے بھر کے خطرات کا مرکزی نگہبان بنے، ہر ضلع کی تیاری کا جائزہ لے، معاوضوں کی شفافیت یقینی بنائے، دستک جیسے صوبائی نظام کے ذریعے ہر ادائیگی کو قابلِ جانچ بنائے، ممکنہ آفات سے پہلے خطرات کم کرے اور آفت کے وقت ریاست کی منظم قوت بن کر سامنے آئے تو پھر اس کے وجود کی اہمیت کسی دلیل کی محتاج نہیں رہتی۔ڈاکخانہ صرف پیغام یا رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا ہے، مگر ایک بااختیار ادارہ سمت بھی متعین کرتا ہے، نگرانی بھی کرتا ہے اور جواب دہ بھی ہوتا ہے۔ قدرتی آفات کے انتظام کا حقیقی معیار یہ نہیں کہ آفت کے بعد کتنے کروڑ روپے تقسیم کیے گئے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ بروقت تدابیر سے کتنی جانیں بچائی گئیں، کتنے گھر تباہ ہونے سے بچے، کتنے خطرات پہلے ختم کیے گئے اور کتنے شہریوں کو مصیبت آنے سے پہلے محفوظ کیا گیا۔وقت کا تقاضا ہے کہ سن 2016 کے بعد اختیار کی تقسیم کے پورے انتظامی ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔

ضلعی انتظامیہ کے ضروری عملی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے صوبائی ادارے کی نگرانی، جانچ، رہنمائی اور جواب دہی کو دوبارہ مضبوط کیا جائے۔ اختیار بانٹنا انتظامی حکمت ہوسکتی ہے، مگر اپنی بنیادی ذمہ داری سے دستبردار ہوجانا کسی بھی ادارے کے لیے دانش مندی نہیں۔آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ یہ تمام نکات کسی فرد یا ادارے کی کردار کشی کے لیے نہیں بلکہ اصلاح کی نیت سے پیش کیے گئے ہیں۔ ایک مضبوطپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا کے عوام کی ضرورت ہے۔ اسے ایسا ادارہ ہونا چاہیے جو آفت کے بعد صرف معاوضہ نہ دے بلکہ آفت سے پہلے خطرے کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی موجودہ قیادت اور سربراہ عارف اللہ اعوان صوبے کے نہایت قابل، باصلاحیت اور تجربہ کار افسران میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے بجا طور پر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی انتظامی بصیرت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور مثر قیادت کے ذریعے ادارے کا کھویا ہوا وقار بحال کریں گے اور اسے ایک بار پھر اس کے حقیقی مینڈیٹ، مضبوط کردار اور مثر ادارہ جاتی مقام کی طرف واپس لے جانے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔کیونکہ ریاست کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ تباہی کے بعد متاثرین کے آنسو پونچھے، بلکہ یہ ہے کہ اپنی دانش، تیاری اور ذمہ داری سے ان آنسوں کو بہنے ہی نہ دے۔

ایئر چیف کا دوٹوک پیغام: پاکستان کیخلاف جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا
حالات معمول پر آتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے گی،وفاقی حکومت
لوچستان: آپریشن شعبان کامیابی سے جاری، مزید 4 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 83 ہوگئی
وزیراعلیٰ سے عبدالغنی آفریدی کی ملاقات،حلقہ پی کے 71 کے مسائل پر تفصیلی گفتگواور اختیارات کے تحفظ کی یقین دہانی
پاکستان پوسٹ کا ری اسٹرکچرنگ پلان پر بڑا یوٹرن، ملازمتوں میں کمی اور ڈاکخانوں کی بندش مؤخر
TAGGED:KPPDMA
Share This Article
Facebook Email Print

Follow US

Find US on Social Medias
1.3kLike
XFollow
YoutubeSubscribe
TelegramFollow
تازہ ترین
پاکستان

غیر ملکی وفود کی آمد کے باعث اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان نافذ

پشاور ہائیکورٹ کے چار مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا
عدالتیں یرغمال، مقبول ترین لیڈر جیل میں، عوام کو نکلنا ہوگا: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
صوبوں کی مخالفت پر حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ
ضلع کرم کے وسطی علاقے ٹنڈوری میں میں کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4افراد جاں بحق،8زخمی

زمرے

  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • سیاست
  • صحت
  • علاقائی
  • کاروبار
  • کھیل

ہمارے بارے میں

روزنامہ آئین ایک باوثوق، مستند اور اہم خبروں پر مبنی کثیر الاشاعت اخبار ہے جو خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں بڑے شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ یہ اخبار آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) سے باقاعدہ طور پر تصدیق شدہ ہے اور پشاور و اسلام آباد سے بیک وقت بلاتعطل شائع ہو رہا ہے،

اہم روابط

  • اخبار
  • اشتہار کے لیے رابطہ
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کیجئے
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • دستبرداری

سماجی رابطے

  • ہمارا فیس بک پیج
  • ہماری ٹویٹر پروفائل
  • ہماری انسٹاگرام پروفائل

سماجی رابطے

  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • بین الاقوامی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
Copyright © 2026, Daily Aeen. Designed & Developed by Pixel Pro
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?