wwwضلع مہمند، جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے متصل ایک حساس سرحدی ضلع ہے، میں امن و امان کے قیام کو اولین ترجیح دیتے ہوئے مہمند پولیس نے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مہمند رضا محمد خان کے مطابق موجودہ حالات میں مہمند پولیس ہر قسم کے سیکیورٹی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جبکہ عوامی تعاون، پولیس جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید حکمت عملی کی بدولت ضلع میں امن کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔
ڈی پی او کے مطابق ضلع بھر میں تقریباً تین ہزار پولیس اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ سات پولیس تھانے اور 102 پولیس چوکیاں چوبیس گھنٹے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فعال ہیں۔ افغانستان سے ملحق سرحدی علاقوں، خصوصاً ننگرہار اور باجوڑ بارڈر پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کی نقل و حرکت پر مؤثر نظر رکھی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی خصوصی توجہ کے باعث مہمند پولیس کو جدید اینٹی ڈرون سسٹم، کوارڈ کاپٹر ڈرونز، نائٹ ویژن ڈیوائسز، بلٹ پروف جیکٹس، جدید اسلحہ اور دیگر حفاظتی و آپریشنل سامان فراہم کیا گیا ہے، جس سے پولیس کی آپریشنل استعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ حکومت خیبرپختونخوا کی پالیسی کے تحت سابقہ خاصہ دار اہلکاروں کو مکمل بنیادی پولیس تربیت دی جا چکی ہے، جس کے بعد وہ باقاعدہ خیبرپختونخوا پولیس کا حصہ بن کر پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جس سے فورس مزید مضبوط اور منظم ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مختلف چوکیوں کی باؤنڈری والز، نئی عمارتوں، پولیس سہولت مراکز اور اہلکاروں کے لیے بہتر رہائشی و دفتری سہولیات پر کام جاری ہے۔ حساس علاقے امبار میں جدید پولیس سہولت مرکز اور ایم ڈی آر سی (MDRC) کے قیام پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
رضا محمد خان کے مطابق شدت پسند عناصر کے خلاف جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، مسلسل گشت اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مربوط رابطوں کے ذریعے مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی انویسٹی گیشن زاہد عالم کی نگرانی میں تفتیشی نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں جرائم کی بروقت تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
ڈی پی او نے بتایا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ضلع مہمند میں صرف دو سیکیورٹی واقعات پیش آئے، تاہم پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھا۔ ان کے مطابق یہ پولیس کی مؤثر حکمت عملی، جدید وسائل، جوانوں کی قربانیوں اور عوامی تعاون کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد مہمند پولیس کی سب سے بڑی طاقت ہے اور دہشت گردی و جرائم کے خلاف کامیابیوں میں مقامی آبادی کے تعاون کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع پولیس کو دیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔
ڈی پی او رضا محمد خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی قیادت میں مہمند پولیس ضلع کو مکمل طور پر پرامن، محفوظ اور دہشت گردی سے پاک بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی۔