خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی نے پختونخوا ہاوس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی، این ایف سی، وفاقی پالیسیوں، سیاسی صورتحال اور آئینی معاملات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ حالیہ اجلاسوں میں شرکت کا مقصد اپنے عوام اور خیبرپختونخوا کا مقدمہ پیش کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ موجودہ حکومت صوبے کو اس کا جائز حق نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کو انتظامی طور پر خیبرپختونخوا میں شامل کیا گیا لیکن مالی طور پر انہیں مکمل طور پر ضم نہیں کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2018 سے این ایف سی کے تحت مالی وسائل غیر آئینی طریقے سے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ آئین کے مطابق این ایف سی کا شیئر چار صوبوں میں تقسیم ہونا چاہیے مگر عملاً اسے ساڑھے تین صوبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق خیبرپختونخوا کو نہ این ایف سی کے تحت جائز حصہ دے رہا ہے اور نہ ہی این ایچ پی کی مد میں ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایا جس میں عمران خان کے وژن کے مطابق ایک واضح پالیسی پیش کی گئی، تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 21 سال کی پالیسیوں کی ناکامی کے باعث دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے خیبرپختونخوا حکومت اب تک 15 ارب روپے خرچ کر چکی ہے جبکہ وفاق نے اس ضمن میں کوئی تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران بھی صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے متاثرین کی مدد کی جبکہ وفاق کی جانب سے کوئی مالی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر ایسی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں جن کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کسی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی جس سے عوام کو نقصان ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے اور ان کے مسائل اٹھانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف بنایا گیا بیانیہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ جمہوری راستہ اختیار کیا اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے کوئی احتجاج نہیں کیا، اس کے باوجود عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی برقرار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بشریٰ بی بی اور دیگر اہل خانہ کو بھی ملاقاتوں سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وہ قومی مفاد میں اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب ان کے خلاف نئے مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا پاکستان کے بارے میں سوچنا صرف ان کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ادارے کمزور ہو چکے ہیں اور بعض عناصر اقتدار کے تحفظ کے لیے انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور قیادت کو دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح سلوک کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہونے پر اب پرامن احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان تحریک انصاف 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ کرے گی جس کے لیے این او سی کے حصول کی درخواست دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اجازت نہ دی گئی تو جہاں روکا جائے گا وہیں احتجاج ریکارڈ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 9 اپریل 2022 کو بیرونی سازش کے تحت ایک منتخب حکومت کو ہٹایا گیا اور عوام کے مینڈیٹ کو پامال کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے اور موجودہ معاشی صورتحال میں متوسط اور کم آمدن طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے حوالے سے صوبے کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھائی جا رہی ہے اور اس حوالے سے عوام میں آگاہی بھی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے اور ججز کو اپنے فیصلوں کا خود جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی عہدے یا کرسی کی لالچ نہیں بلکہ ان کا مقصد آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پارٹی کو واضح وژن دیا ہے اور اسی کے مطابق سیاسی حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کی ہدایت پر کارکنان کو متحرک کیا جا رہا ہے اور ملک بھر سے عہدیداران کو 9 اپریل کے جلسے میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔
<><><><><>