پشاور(نیوزرپورٹر)خیبرپختونخوا حکومت نے ڈبل شفٹ اسکولز پروگرام کے تحت اوپن مارکیٹ سے بھرتی کئے گئے اساتذہ کے ماہانہ اعزازیے میں 20 فیصد اضافے کی سفارش کردی ہے جبکہ کارکردگی کی بنیاد پر سالانہ 10 فیصد تک اضافی اضافہ بھی قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ریفارمز اینڈ امپلیمنٹیشن ونگ کی جانب سے مرتب کردہ سفارشات کے مطابق وزارتی کمیٹی نے ڈبل شفٹ اسکولز پروگرام کے حوالے سے مختلف سفارشات اور مالی امور کا جائزہ لینے کے بعد اعزازیوں میں اضافے کی منظوری دی جس کے تحت پرائمری سطح کے اساتذہ کا ماہانہ اعزازیہ 22 ہزار سے بڑھا کر 26 ہزار 400 روپے، مڈل کے اساتذہ کا 25 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے، ہائی کے اساتذہ کا 28 ہزار سے بڑھا کر 33 ہزار 600 روپے جبکہ ہائر سیکنڈری کے اساتذہ کا 30 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیٹی کے مطابق کارکردگی کی بنیاد پر سالانہ 10 فیصد تک اضافہ بھی دیا جاسکے گا تاہم یہ اضافہ خودکار نہیں ہوگا بلکہ مقررہ اشاریوں کے مطابق دستاویزی کارکردگی کا جائزہ لینے اور متعلقہ اتھارٹی سے تصدیق کے بعد ہی قابل عمل ہوگا۔
سفارشات کے مطابق نئے اعزازیہ ریٹس صرف ڈبل شفٹ اسکولز پروگرام کے تحت اوپن مارکیٹ سے بھرتی کئے گئے اساتذہ پر لاگو ہوں گے اور باقاعدہ سرکاری افسران، اہلکاروں یا دیگر اسکیموں کے تحت خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو اس کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ موسم گرما یا سرما کی اعلان شدہ تعطیلات کے دوران، جب اسکول بند ہوں اور تدریسی سرگرمیاں نہ ہورہی ہوں، اعزازیہ قابل ادائیگی نہیں ہوگا جبکہ ادائیگی کو تعلیمی کیلنڈر، تصدیق شدہ حاضری اور حقیقی تدریسی خدمات سے منسلک کیا جائے گا۔
کمیٹی نے ڈبل شفٹ اسکولز پروگرام میں توسیع کو بھی موثر قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ مزید توسیع تصدیق شدہ ضرورت، طلبہ کے داخلے کی استعداد، دستیاب انفراسٹرکچر، اساتذہ کی ضرورت اور واضح مالی انتظام کی بنیاد پر کی جائے۔
اجلاس میں ایڈوائزر فنانس نے بتایا کہ ایجوکیشن ایمرجنسی ہیڈ کے تحت بجٹ دستیاب ہے اور پروگرام میں توسیع کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ دستیاب دیگر ذرائع سے مختص رقم کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا شرح سے میچنگ سپورٹ فراہم کرے گا۔
کمیٹی کی جانب سے سفارشات، نظرثانی شدہ پالیسی اور مالی اثرات کو صوبائی کابینہ کی منظوری کیلئے پیش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔