امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہایران جنگ ختم ہونے کے قریب ہے، ایران کے ساتھ سیزفائرمیں توسیع کے بارے میں نہیں سوچ رہا،میرا نہیں خیال کہ اس کی ضرورت پڑے گی،میرے خیال میں معاہدہ بہتر ہے تاکہ وہ تعمیر کر سکیں۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوزکو انٹرویو میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں بڑی پیشرفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہاکہ جنگ بندی میں توسیع کا امکان نہیں،اس سے پہلے ہی مسئلہ حل ہوسکتا ہے،میرے خیال میں ایران کی تعمیرنو کیلئے معاہدہ بہترین آپشن ہے، معاہدہ بہترہے تاکہ وہ تعمیرکرسکیں،ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کیلئے فوری اقدام ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر میں نے ابھی اپنا دا ئو کھیل دیا تو ایران کو اپنے ملک کی تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے، اور ابھی ہمارا کام ختم نہیں ہوا۔ امریکی صدر نے کہا کہ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، میرا خیال ہے وہ (ایران) بہت شدت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہشمند ہیں۔دریں اثنا امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پوپ لیو کو ہدفِ تنقید بنا ڈالا اور اطالوی وزیراعظم کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ٹرمپ نے کہا کہ پوپ لیو کو ایران کے ایٹمی خطرے کا کوئی علم نہیں، پوپ کو جنگوں پر بات نہیں کرنی چاہیے، پوپ کو پتا ہی نہیں ہے کہ دنیا میں ہو کیا رہا ہے۔اس کے علاوہ امریکی صدر نے اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی پر بھی تنقید کی۔ ٹرمپ نے کہا میرے تبصرے نہیں ، جارجیا میلونی خود ناقابلِ قبول ہیں کیوں کہ میلونی کو فکر نہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں یا نہ ہوں، میلونی کو یہ بھِی فکر نہیں کہ ایران کو اگر موقع ملے تو وہ دو منٹ میں اٹلی کو تباہ کردے گا ۔واضح رہے کہ ٹرمپ ماضی میں اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی تعریف کرتے رہے ہیں ۔