ایران نے ایک ماہ سے زائد جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بعد اپنی فضائی حدود کا کچھ حصہ دوبارہ کھولنا شروع کر دیا ہے، تاہم خطے کی اہم ترین سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کر لی گئی ہے۔
ایرانی سول ایوی ایشن کے مطابق ملک کی فضائی حدود کا مشرقی حصہ بین الاقوامی پروازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے ساتھ فضائی روٹس کو مکمل طور پر فعال کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی نیوی کی اجازت لازمی ہوگی۔ نیول کمانڈر شہرام ایرانی نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں سلامتی کی صورتحال کے مطابق ہی بحری آمدورفت کی اجازت دی جائے گی۔
ایران کی وزارتِ دفاع نے بھی واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سکیورٹی حالات سے مشروط ہوگی اور اگر کشیدگی یا حملے جاری رہے تو اس اہم تجارتی گزرگاہ میں معمول کی شپنگ متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے ان اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور تجارت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔